السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: كراهية قتل النملة للمحرم، وغير المحرم وكذلك ما لا ضرر فيه مما لا يؤكل باب: محرم اور غیر محرم کے لیے چیونٹی مارنے کی کراہت کا بیان، اور اسی طرح ہر اس جانور کو مارنے کی ممانعت جس کا گوشت نہیں کھایا جاتا اور اس سے کوئی تکلیف بھی نہ ہو۔
حدیث نمبر: 10069
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ فَأَمَرَ بِجَهَازِهِ فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا، وَأَمَرَ بِهَا فَأُحْرِقَتْ فِي النَّارِ فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً؟ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی نبی نے ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیا تو ایک چیونٹی نے ان کو کاٹ لیا، انہوں نے اپنے سامان کا حکم دیا تو وہ اس (درخت) کے نیچے سے نکالا گیا، پھر (چیونٹیوں کے بارے میں) حکم دیا تو ان کو آگ میں جلا دیا گیا، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی: ”آپ نے صرف ایک چیونٹی کو (سزا) کیوں نہ دی؟““ [صحیح: مسلم: 2241]