حدیث نمبر: 10060
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهُدَيْرِ " أَنَّهُ رَأَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُقَرِّدُ بَعِيرًا لَهُ فِي الطِّينِ بِالسُّقْيَا وَهُوَ مُحْرِمٌ ".
حافظ ثناء اللہ

عکرمہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے عکرمہ سے کہا: ”کھڑے ہو جاؤ اور اس اونٹ کی چیچڑی نکالو۔“ انہوں نے کہا: ”میں محرم ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”تم اس کو قتل کرو۔“ اس نے قتل کر دیا تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اب آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ نے چیچڑی کو قتل کر دیا؟“ اسی طرح «الْحَلَمَةُ» اور «الْحَمْنَانَةُ» بھی چیچڑی کی اقسام ہیں۔
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اصمعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ فرد، چھوٹی چیچڑی «الْقَمْقَامَةُ» کہلاتی ہے، جب بڑی ہو جائے تو «الْحَمْنَانَةُ» اور جب زیادہ بڑی ہو جائے تو «الْحَلَمَةُ» کہلاتی ہے، فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ارادہ یہ تھا کہ محرم آدمی اونٹ کی چیچڑی نکالے اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اونٹ کی چیچڑی مٹی یا ہاتھ سے نکالی جا سکتی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10060
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 8406»