السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: : لا يفدي المحرم إلا ما يؤكل لحمه باب: محرم صرف اسی شکار کا فدیہ دے گا جس کا گوشت کھایا جاتا ہو۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهُدَيْرِ " أَنَّهُ رَأَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُقَرِّدُ بَعِيرًا لَهُ فِي الطِّينِ بِالسُّقْيَا وَهُوَ مُحْرِمٌ ".عکرمہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے عکرمہ سے کہا: ”کھڑے ہو جاؤ اور اس اونٹ کی چیچڑی نکالو۔“ انہوں نے کہا: ”میں محرم ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”تم اس کو قتل کرو۔“ اس نے قتل کر دیا تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اب آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ نے چیچڑی کو قتل کر دیا؟“ اسی طرح «الْحَلَمَةُ» اور «الْحَمْنَانَةُ» بھی چیچڑی کی اقسام ہیں۔
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اصمعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ فرد، چھوٹی چیچڑی «الْقَمْقَامَةُ» کہلاتی ہے، جب بڑی ہو جائے تو «الْحَمْنَانَةُ» اور جب زیادہ بڑی ہو جائے تو «الْحَلَمَةُ» کہلاتی ہے، فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ارادہ یہ تھا کہ محرم آدمی اونٹ کی چیچڑی نکالے اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اونٹ کی چیچڑی مٹی یا ہاتھ سے نکالی جا سکتی ہے۔