کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نفلی روزوں کا بیان - اس بات کی اجازت کہ آدمی دن کے وقت نفلی روزہ شروع کرے چاہے اس نے رات سے اس کی نیت نہ کی ہو
حدیث نمبر: 3628
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحِيَى ، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ ؟ " ، قُلْتُ : لا ، قَالَ : " فَإِنِّي صَائِمٌ " ، قَالَتْ : ثُمَّ أَتَانَا يَوْمًا آخَرَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَخَبَّأْنَاهُ لَكَ ، فَقَالَ : " أَدْنِيهِ " ، فَأَصْبَحَ صَائِمًا ، ثُمَّ أَفْطَرَ .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے آپ نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے۔ میں نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر میں روزہ رکھ لیتا ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی دن میں دوسری مرتبہ میرے ہاں تشریف لائے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمیں ” حیس “ تحفے کے طور پر دیا گیا ہے وہ ہم نے آپ کے لیے سنبھال کر رکھا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پیش کرو، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے روزہ رکھا ہوا تھا پھر آپ نے روزہ ختم کر دیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصوم / حدیث: 3628
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «الإرواء» (965)، «صحيح أبي داود» (2119): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3619»