کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نفلی روزوں کا بیان - اس بات کا بیان کہ عاشوراء کے روزہ کا حکم استحباب کا ہے، نہ کہ وجوب کا
حدیث نمبر: 3626
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحِيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ الزُهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ خَطَبَ بِالْمَدِينَةَ فِي قَدْمَةٍ قَدِمَهَا يَوْمَ عَاشُورَاءَ ، فَقَالَ : أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ ، وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ صِيَامُهُ ، وَأَنَا صَائِمٌ ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلِيَصُمْ " .
حمید بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ تشریف لائے۔ انہوں نے عاشورہ کے دن خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے اہل مدینہ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ” یہ عاشورہ کا دن ہے اس دن روزہ رکھنا تم پر لازم قرار نہیں دیا گیا، لیکن میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، تو جو شخص (اس دن میں) روزہ رکھنا پسند کرے وہ روزہ رکھ لے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصوم / حدیث: 3626
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3617»