کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: روزے کی فضیلت کا بیان - اس بات کا بیان کہ ہر طاعت کے لیے جنت کے دروازے ہیں جن سے اس کے اہل بلائے جاتے ہیں، سوائے روزہ کے جس کے لیے ایک ہی دروازہ ہے
حدیث نمبر: 3419
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، دُعِيَ مِنْ أَبُوَابِ الْجَنَّةِ ، وَلِلْجَنَّةِ أَبُوَابٌ ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاةِ ، دُعِيَ مِنْ أَبُوَابِ الصَّلاةِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ ، دُعِيَ مِنْ أَبُوَابِ الصَّدَقَةِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ ، دُعِيَ مِنْ أَبُوَابِ الْجِهَادِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ " ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا عَلَى أَحَدٍ مِنْ ضَرُورَةٍ مِنْ أَيِّهَا دُعِيَ ، فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْهَا كُلِّهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : " عَسَى " مِنَ اللَّهِ وَاجِبٌ ، وَ" أَرْجُو " مِنَ النَّبِيِّ حَقٌّ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جو شخص اللہ کی راہ میں کسی چیز کا جوڑا خرچ کرتا ہے، تو اسے جنت کے دروازوں سے بلایا جاتا ہے جنت کے کئی دروازے ہیں جو لوگ نمازی ہیں انہیں نماز والے دروازے سے بلایا جائے گا جو صدقہ کرنے والے ہیں انہیں صدقے والے دروازے سے بلایا جائے گا جو جہاد کرنے والے ہیں انہیں جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا جو روزہ دار ہیں انہیں باب ” ریان “ سے بلایا جائے گا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ایسے بھی، تو ہو سکتا ہے کہ کسی شخص کو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کسی شخص کو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں اور مجھے یہ امید ہے تم ان میں سے ایک ہو گے۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): لفظ عسی جب اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو تو اس سے مراد کسی چیز کا لازم ہونا ہو گا۔ اور لفظ ارجو (مجھے اُمید ہے) جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو تو اس کا مطلب یہ ہے: ایسا ضرور ہو گا۔