کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ اس خبر میں کتے کا ذکر عمومی لفظ میں کیا گیا لیکن اس سے مراد بعض کتے ہیں، نہ کہ سب
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، بِخَبَرٍ غَرِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ أَبِي الذَّيَّالِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقْطَعُ الصَّلاةَ : الْمَرْأَةُ ، وَالْحِمَارُ ، وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ " ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا ذَرٍّ : مَا بَالُ الأَسْوَدِ مِنَ الأَحْمَرِ مِنَ الأَصْفَرِ ؟ ، فَقَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي ، فَقَالَ : " الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ " .
عبداللہ بن صامت سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ ” عورت گدھا اور سیاہ کتا (نمازی کے آگے سے گزر کر) نماز کو توڑ دیتے ہیں۔ “ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا ہے۔ اے (سیدنا) ابوذر (رضی اللہ عنہ)! سیاہ کتا کیوں سرخ یا زرد کیوں نہیں، تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سیاہ (کتا) شیطان ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَحَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَقْطَعُ الصَّلاةَ : الْحِمَارُ ، وَالْمَرْأَةُ ، وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : مَا بَالُ الأَسْوَدِ مِنَ الأَحْمَرِ مِنَ الأَصْفَرِ مِنَ الأَبْيَضِ ؟ ، قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْكَلْبَ الأَسْوَدَ شَيْطَانٌ " .
عبداللہ بن صامت سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ ” گدھا عورت اور سیاہ کتا (نمازی کے آگے سے گزر کر اس کی) نماز کو توڑ دیتے ہیں۔ “ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے دریافت کیا: سیاہ کتا کیوں سرخ یا زرد یا سفید کیوں نہیں۔ انہوں نے فرمایا: اے میرے بھتیجے میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی پوچھا: تھا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ” سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔ “