کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ اس خبر میں کتے کا ذکر عمومی لفظ میں کیا گیا لیکن اس سے مراد بعض کتے ہیں، نہ کہ سب
حدیث نمبر: 2388
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، بِخَبَرٍ غَرِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ أَبِي الذَّيَّالِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقْطَعُ الصَّلاةَ : الْمَرْأَةُ ، وَالْحِمَارُ ، وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ " ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا ذَرٍّ : مَا بَالُ الأَسْوَدِ مِنَ الأَحْمَرِ مِنَ الأَصْفَرِ ؟ ، فَقَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي ، فَقَالَ : " الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ " .
عبداللہ بن صامت سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ ” عورت گدھا اور سیاہ کتا (نمازی کے آگے سے گزر کر) نماز کو توڑ دیتے ہیں۔ “ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا ہے۔ اے (سیدنا) ابوذر (رضی اللہ عنہ)! سیاہ کتا کیوں سرخ یا زرد کیوں نہیں، تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سیاہ (کتا) شیطان ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 2389
حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَحَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَقْطَعُ الصَّلاةَ : الْحِمَارُ ، وَالْمَرْأَةُ ، وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : مَا بَالُ الأَسْوَدِ مِنَ الأَحْمَرِ مِنَ الأَصْفَرِ مِنَ الأَبْيَضِ ؟ ، قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْكَلْبَ الأَسْوَدَ شَيْطَانٌ " .
عبداللہ بن صامت سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ ” گدھا عورت اور سیاہ کتا (نمازی کے آگے سے گزر کر اس کی) نماز کو توڑ دیتے ہیں۔ “ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے دریافت کیا: سیاہ کتا کیوں سرخ یا زرد یا سفید کیوں نہیں۔ انہوں نے فرمایا: اے میرے بھتیجے میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی پوچھا: تھا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ” سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔ “