کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: اذکار کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بغیر روح والی بڑھتی ہوئی چیزیں جب تک تر رہتی ہیں تسبیح کرتی ہیں
حدیث نمبر: 824
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كُنَّا نَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَرَرْنَا عَلَى قَبْرَيْنِ ، فَقَامَ ، فَقُمْنَا مَعَهُ ، فَجَعَلَ لَوْنُهُ يَتَغَيَّرُ حَتَّى رَعَدَ كُمُّ قَمِيصِهِ ، فَقُلْنَا : مَا لَكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مَا تَسْمَعُونَ مَا أَسْمَعُ ؟ " قُلْنَا : وَمَا ذَاكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " هَذَانِ رَجُلانِ يُعَذَّبَانِ فِي قُبُورِهِمَا عَذَابًا شَدِيدًا فِي ذَنْبٍ هَيِّنٍ " ، قُلْنَا : مِمَّ ذَلِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " كَانَ أَحَدُهُمَا لا يَسْتَنْزِهُ مِنَ الْبَوْلِ ، وَكَانَ الآخَرُ يُؤْذِي النَّاسَ بِلِسَانِهِ ، وَيَمْشِي بَيْنَهُمْ بِالنَّمِيمَةِ " ، فَدَعَا بِجَرِيدَتَيْنِ مِنْ جَرَائِدِ النَّخْلِ ، فَجَعَلَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً . قُلْنَا : وَهَلْ يَنْفَعُهُمَا ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، يُخَفِّفُ عَنْهُمَا مَا دَامَا رَطْبَتَيْنِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے۔ ہمارا گزر دو قبروں کے پاس سے ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر گئے ہم بھی آپ کے ساتھ ٹھہر گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رنگت تبدیل ہو گئی، یہاں تک کہ آپ کی قمیض کی آستین کپکپانے لگی۔ ہم نے دریافت کیا: اے اللہ کے نبی! آپ کو کیا ہوا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو میں سن رہا ہوں کیا تم بھی وہ سن رہے ہو۔ ہم نے دریافت کیا: اے اللہ کے نبی! وہ کیا چیز ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دو لوگوں کو ان کی قبروں میں دو بلکے گناہ کی وجہ سے شدید عذاب ہو رہا ہے۔ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! اس کی وجہ کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے ایک شخص پیشاب سے بچتا نہیں تھا، اور دوسرا شخص اپنی زبان کے ذریعے لوگوں کو اذیت پہنچاتا تھا، اور ان کے درمیان چغلی کیا کرتا تھا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی شاخوں میں سے دو شاخیں منگوائی اور آپ نے ہر ایک کی قبر پر اسے گاڑ دیا۔ ہم نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! کیا ان دونوں کو اس کا کوئی فائدہ ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جی ہاں۔ جب تک یہ دونوں خشک نہیں ہو جاتیں ان کے عذاب میں تخفیف رہے گی۔