کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اذکار کا بیان - اس چیز کا ذکر جو کہنے والے کو ہدایت دیتی ہے، کافی ہوتی ہے اور حفاظت کرتی ہے جب وہ اسے اپنے گھر سے نکلتے وقت کہتا ہے
حدیث نمبر: 822
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ : فَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ ، لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ ، فَيُقَالُ لَهُ : حَسْبُكَ قَدْ كُفِيتَ وَهُدِيتَ وَوُقِيتَ . فَيَلْقَى الشَّيْطَانُ شَيْطَانًا آخَرَ فَيَقُولُ لَهُ : كَيْفَ لَكَ بِرَجُلٍ قَدْ كُفِيَ وَهُدِيَ وَوُقِيَ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب کوئی شخص اپنے گھر سے نکلتے ہوئے یہ پڑھتا ہے: ”اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے میں نےاللہ تعالیٰ پر توکل کیا اور اللہ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ۔“ تو اس شخص سے یہ کہا: جاتا ہے تمہارے لئے اتنا کافی ہے تمہاری کفایت کر دی گئی تمہاری رہنمائی کی گئی اور تم کو بچا لیا گیا پھر شیطان دوسرے شیطان سے ملتا ہے۔ اس سے کہتا ہے: ایسے شخص کے ساتھ تم کیا کر سکتے ہو، جس کی کفایت بھی کر لی گئی ہو رہنمائی بھی کر دی گئی ہو اور اسے بچا بھی لیا گیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 822
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج الكلم الطيب» (59). * [كًيْفَ] قال الشيخ: في مطبوعة دار الكتب العلمية: «زيف»! فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات إلا أن ابن جريج مدلس، وقد عنعن عند الجميع، وقال الحافظ- فيما نقله ابن علان 1/ 335 - : " رجاله رجال الصحيح، ولذا صحيحه ابن حبان، لكن خفيت عليه علته، قال البخاري: لا أعرف لابن جريج عن إسحاق بن عبد الله بن أبىِ طلحه الراوي عن أنس إلا هذا، ولا أعرف له منه سماعا. قال الدارقطني. ورواه عبد المجيد بن عبد العزيز عن ابن جريج قال. حدثت عن إسحاق: وعبد المجيد أثبت الناس في إسحاق ". وانظر ما يأتي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 819»