صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الأذكار - ذكر الأمر لمن انتظر النفخ في الصور أن يقول حسبنا الله ونعم الوكيل باب: اذکار کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ جو شخص صور میں پھونک کا انتظار کر رہا ہو اسے "حسبنا اللہ ونعم الوکیل" کہنا چاہیے
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْبُخَارِيِّ ، بِبَغْدَادَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الصُّوَرِ قَدِ الْتَقَمَ الْقَرْنَ ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ أَنْ يَنْفُخَ ؟ " قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا نَقُولُ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : " قُولُوا : حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ بِإِسْنَادٍ نَحْوِهِ ، قَالَ : " قُولُوا : حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ، عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا " .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” میں کیسے نعمت میں رہ سکتا ہوں جبکہ (صور میں) پھونک مارنے والے نے اپنا منہ صور کے ساتھ لگایا ہوا ہے اور اس نے اپنی پیشانی کو اس بات کے انتظار میں تیار رکھا ہوا ہے کب اسے پھونک مارنے کا حکم ہوتا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے کہا: یا رسول اللہ! ہمیں پھر اس دن کیا کہنا چاہئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ کہو: «حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» (ہمارے لئےاللہ تعالیٰ کافی ہے وہ بہترین کارساز ہے) ۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابویعلی نے اپنی سند کے ساتھ اسی کی مانند روایت نقل کی ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں۔ «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ»، «عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا» ” تم لوگ یہ کہو ہمارے لئےاللہ تعالیٰ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے اور ہماللہ تعالیٰ پر ہی توکل کرتے ہیں ۔“