حدیث نمبر: 98
«اتق الله ولا تحقرن من المعروف شيئا ولو أن تفرغ من دلوك في إناء المستسقي وأن تلقى أخاك ووجهك إليه منبسط وإياك وإسبال الإزار فإن إسبال الإزار من المخيلة ولا يحبها الله وإن امرؤ شتمك وعيرك بأمر ليس هو فيك فلا تعيره بأمر هو فيه ودعه يكون وباله عليه وأجره لك ولا تسبن أحدا»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ سے ڈرو اور کسی بھی نیکی کو ہرگز حقیر نہ جانو، خواہ وہ تمہارا اپنے ڈول سے پانی مانگنے والے کے برتن میں پانی انڈیلنا ہو، یا اپنے بھائی سے خندہ پیشانی (مسکراتے چہرے) کے ساتھ ملاقات کرنا ہو۔ اور اپنی ازار (تہبند یا شلوار) کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے سے بچو، کیونکہ ازار لٹکانا تکبر کی علامت ہے اور اللہ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔ اور اگر کوئی شخص تمہیں گالی دے اور تمہارے اندر موجود کسی ایسی برائی کا طعنہ دے جو تم میں نہیں ہے، تو تم اسے کسی ایسی برائی کا طعنہ نہ دو جو اس میں موجود ہے، اور اسے چھوڑ دو، اس کا وبال اسی پر ہوگا اور اس کا اجر تمہیں ملے گا، اور کبھی کسی کو گالی نہ دو۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 98
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الطيالسي, حب] عن جابر بن سليم الهجيمي. الصحيحة ٧٧٠.