حدیث نمبر: 84
«أتدرون أين تذهب هذه الشمس؟ إن هذه تجري حتى تنتهي إلى مستقرها تحت العرش فتخر ساجدة فلا تزال كذلك حتى يقال لها: ارتفعي ارجعي من حيث جئت فترجع فتصبح طالعة من مطلعها ثم تجري حتى تنتهي إلى مستقرها تحت العرش فتخر ساجدة فلا تزال كذلك حتى يقال لها: ارتفعي ارجعي من حيث جئت فترجع فتصبح طالعة من مطلعها ثم تجري لا يستنكر الناس منها شيئا حتى تنتهي إلى مستقرها ذاك تحت العرش فيقال لها: ارتفعي أصبحي طالعة من مغربك فتصبح طالعة من مغربها أتدرون متى ذاكم؟ حين {لَا يَنْفَعُ نَفْساً إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْراً} ١»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ بے شک یہ چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ عرش کے نیچے اپنے ٹھکانے پر پہنچ جاتا ہے اور سجدے میں گر پڑتا ہے۔ پھر وہ اسی حالت میں رہتا ہے یہاں تک کہ اسے کہا جاتا ہے: اٹھ اور وہیں لوٹ جا جہاں سے تو آیا تھا، چنانچہ وہ لوٹتا ہے اور اپنے طلوع ہونے کی جگہ (مشرق) سے نکلتا ہے۔ پھر وہ چلتا ہے یہاں تک کہ عرش کے نیچے اپنے اسی ٹھکانے پر پہنچ کر سجدے میں گر پڑتا ہے اور اسی حالت میں رہتا ہے یہاں تک کہ اسے حکم ہوتا ہے: اٹھ اور وہیں لوٹ جا جہاں سے تو آیا تھا۔ پس وہ لوٹتا ہے اور اپنے مطلع سے طلوع ہوتا ہے۔ پھر وہ چلتا رہتا ہے اور لوگوں کو اس میں کوئی اجنبیت محسوس نہیں ہوتی، یہاں تک کہ وہ عرش کے نیچے اپنے اسی ٹھکانے پر پہنچتا ہے تو اسے کہا جائے گا: اٹھ، اور آج اپنی مغرب (غروب ہونے کی جگہ) سے طلوع ہو، تو وہ مغرب سے طلوع ہوگا۔ کیا تم جانتے ہو کہ یہ کب ہوگا؟ یہ اس وقت ہوگا جب ﴿لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا﴾ یعنی کسی ایسی جان کو اس کا ایمان نفع نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لائی ہو یا اس نے اپنے ایمان کی حالت میں کوئی بھلائی نہ کمائی ہو۔ [سورة الأنعام: 158]

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 84
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي ذر. مختصر مسلم ٢١٣٨.