حدیث نمبر: 8158
«يلقى إبراهيم أباه آزر يوم القيامة وعلى وجه آزر قترة وغبرة فيقول له إبراهيم: ألم أقل لك لا تعصني؟ فيقول أبوه: فاليوم لا أعصيك فيقول إبراهيم: يا رب! إنك وعدتني أن لا تخزيني يوم يبعثون وأي خزي أخزى من أبي الأبعد؟ فيقول الله: إني حرمت الجنة على الكافرين فيقال: يا إبراهيم! انظر ما بين رجليك! فينظر فإذا هو بذيخ ملتطخ فيؤخذ بقوائمه فيلقى في النار»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ابراہیم علیہ السلام قیامت کے دن اپنے باپ آزر سے ملیں گے، آزر کے چہرے پر سیاہی اور گرد و غبار ہو گا، تو ابراہیم علیہ السلام اس سے کہیں گے: کیا میں نے تجھ سے نہیں کہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کرنا؟ اس کا باپ کہے گا: آج میں تیری نافرمانی نہیں کروں گا۔ ابراہیم علیہ السلام عرض کریں گے: اے میرے رب! تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اٹھائے جانے کے دن مجھے رسوا نہیں کرے گا، اور اس سے بڑی رسوائی کیا ہو گی کہ میرا باپ سب سے دور (رحمت سے) ہو؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے جنت کافروں پر حرام کر دی ہے۔ پھر کہا جائے گا: اے ابراہیم! اپنے پاؤں کے نیچے دیکھو! تو وہ دیکھیں گے کہ وہاں ایک خون آلود لکڑبگا ہے، پس اسے اس کے پاؤں سے پکڑ کر آگ میں پھینک دیا جائے گا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8158
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أبي هريرة. المشكاة ٥٥٣٨ [٢٠٥ - ٢٣٨] .