حدیث نمبر: 8147
«يقي أحدكم وجهه حر جهنم ولو بتمرة ولو بشق تمرة فإن أحدكم لاقي الله وقائل له ما أقول لأحدكم: ألم أجعل لك سمعا وبصرا؟ فيقول: بلى فيقول: ألم أجعل لك مالا وولدا؟ فيقول: بلى فيقول: أين ما قدمت لنفسك؟ فينظر قدامه وبعده وعن يمينه وعن شماله ثم لا يجد شيئا يقي به وجهه حر جهنم ليق أحدكم وجهه النار ولو بشق تمرة فإن لم يجد فبكلمة طيبة فإني لا أخاف عليكم الفاقة فإن الله ناصركم ومعطيكم حتى تسير الظعينة فيما بين يثرب والحيرة وأكثر ما يخاف على مطيتها السرق»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے ہر شخص جہنم کی گرمی سے اپنے چہرے کو بچائے، خواہ ایک کھجور دے کر ہو یا آدھی کھجور دے کر، کیونکہ تم میں سے ہر شخص اللہ سے ملاقات کرے گا اور اللہ اس سے وہی کچھ کہے گا جو میں تم میں سے کسی سے کہتا ہوں: کیا میں نے تجھے کان اور آنکھ نہیں دی تھی؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں۔ اللہ فرمائے گا: کیا میں نے تجھے مال اور اولاد نہیں دی تھی؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں۔ اللہ فرمائے گا: تو نے اپنے لیے آگے کیا بھیجا؟ وہ اپنے آگے، پیچھے، دائیں اور بائیں دیکھے گا تو اسے کوئی ایسی چیز نہیں ملے گی جس سے وہ اپنے چہرے کو جہنم کی گرمی سے بچا سکے۔ پس تم میں سے ہر شخص اپنے چہرے کو (جہنم کی) آگ سے بچائے خواہ آدھی کھجور دے کر ہو، اور اگر وہ (بھی) نہ پائے تو ایک اچھی بات کہہ کر (بچائے)۔ مجھے تم پر فقر و فاقہ کا خوف نہیں، کیونکہ اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں (نعمتیں) عطا کرے گا، یہاں تک کہ ایک عورت اکیلی یثرب سے حیرہ تک کا سفر کرے گی اور اس کی سواری کے بارے میں سب سے زیادہ خوف صرف چوری کا ہو گا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8147
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت] عن عدي بن حاتم. صحيح الترغيب ٨٥٧.