صحیح الجامع الصغیر
حرف الياء— حرف یا
الأحاديث المبدوءة بحرف الياء باب: حرف یا سے شروع ہونے والی احادیث
«يقول الله تعالى: يا آدم! فيقول: لبيك وسعديك والخير في يديك فيقول: أخرج بعث النار قال: وما بعث النار؟ قال من كل ألف تسعمائة وتسعة وتسعين فعندها يشيب الصغير {وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ} قالوا: يا رسول الله! وأينا ذلك الواحد؟ قال: أبشروا فإن منكم رجلا ومن يأجوج ومأجوج ألف والذي نفسي بيده أرجوأن تكونوا ربع أهل الجنة أرجوأن تكونوا ثلث أهل الجنة أرجوأن تكونوا نصف أهل الجنة ما أنتم في الناس إلا كالشعرة السوداء في جلد ثور أبيض أو كشعرة بيضاء في جلد ثور أسود أو كالرقمة في ذراع الحمار»(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم! وہ عرض کریں گے: حاضر ہوں، اور بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جہنم کا حصہ نکالو۔ آدم علیہ السلام پوچھیں گے: جہنم کا حصہ کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ اس وقت چھوٹا بچہ بوڑھا ہو جائے گا، ہر حاملہ اپنا حمل گرا دے گی اور تو لوگوں کو نشے میں دیکھے گا، حالانکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے، لیکن اللہ کا عذاب سخت ہو گا۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر ہم میں سے وہ ایک کون ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: خوش ہو جاؤ، کیونکہ تم میں سے ایک آدمی ہو گا اور یاجوج ماجوج میں سے ایک ہزار، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم جنت والوں کا چوتھائی حصہ ہو گے، مجھے امید ہے کہ تم جنت والوں کا تہائی حصہ ہو گے، مجھے امید ہے کہ تم جنت والوں کا آدھا حصہ ہو گے، تم لوگوں میں (دوسری امتوں کے مقابلے میں) بس ایسے ہو جیسے سفید بیل کی کھال میں کالا بال، یا کالے بیل کی کھال میں سفید بال، یا گدھے کے بازو پر نشان (کا حصہ)۔“