صحیح الجامع الصغیر
حرف الياء— حرف یا
الأحاديث المبدوءة بحرف الياء باب: حرف یا سے شروع ہونے والی احادیث
حدیث نمبر: 8134
«يقول العبد يوم القيامة: يا رب ألم تجرني من الظلم؟ فيقول: بلى فيقول: إني لا أجيز على نفسي إلا شاهدا مني فيقول {كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيباً} وبالكرام الكاتبين شهودا فيختم على فيه ويقال لأركانه: انطقي فتنطق بأعماله ثم يخلى بينه وبين الكلام فيقول: بعدا لكن وسحقا فعنكن كنت أناضل»ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بندہ قیامت کے دن کہے گا: اے میرے رب! کیا تو نے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی تھی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیوں نہیں۔ وہ کہے گا: تو میں اپنے خلاف اپنے سوا کسی کی گواہی قبول نہیں کروں گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: آج تیری اپنی جان تیرے خلاف کافی گواہ ہے، اور معزز لکھنے والے فرشتے بھی گواہ ہیں۔ پس اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے اعضاء سے کہا جائے گا: بولو! تو وہ اس کے اعمال کے بارے میں بولیں گے، پھر اسے بولنے کی اجازت دی جائے گی تو وہ کہے گا: تم دور ہو جاؤ اور ہلاک ہو جاؤ، میں تو تمہاری ہی طرف سے (اپنا دفاع کرتے ہوئے) لڑ رہا تھا۔“