حدیث نمبر: 8075
«يدخل الملك على النطفة بعد ما تستقر في الرحم بأربعين ليلة فيقول: يا رب! ماذا؟ أشقى أم سعيد؟ أذكر أم أنثى؟ فيقول الله فيكتبان ويكتب عمله وأثره ومصيبته ورزقه وأجله ثم تطوى الصحيفة فلا يزاد على ما فيها ولا ينقص»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”فرشتہ نطفے کے رحم میں قرار پکڑنے کے چالیس دن بعد اس کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے: اے رب! کیا لکھوں؟ بدبخت یا نیک بخت؟ مرد یا عورت؟ تو اللہ فرماتا ہے اور فرشتے لکھ لیتے ہیں، اور اس کا عمل، اس کا انجام، اس کی مصیبت، اس کا رزق اور اس کی موت کا وقت لکھ لیا جاتا ہے، پھر صحیفہ لپیٹ دیا جاتا ہے، اس میں جو کچھ لکھا ہے اس میں نہ کوئی اضافہ ہوتا ہے اور نہ کوئی کمی۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8075
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن حذيفة بن أسيد. مختصر مسلم ١٨٤٨، الضعيفة ٢٣٢٢.