صحیح الجامع الصغیر
حرف الياء— حرف یا
الأحاديث المبدوءة بحرف الياء باب: حرف یا سے شروع ہونے والی احادیث
«يخرج قوم من أمتي يقرءون القرآن ليس قراءتكم إلى قراءتهم بشيء ولا صلاتكم إلى صلاتهم بشيء ولا صيامكم إلى صيامهم بشيء يقرءون القرآن يحسبون أنه لهم وهو عليهم لا تجأوز صلاتهم تراقيهم يمرقون من الإسلام كما يمرق السهم من الرمية لويعلم الجيش الذين يصيبونهم ما قضى لهم على لسان نبيهم لاتكلوا عن العمل وآية ذلك أن فيهم رجلا له عضد ليس فيه ذراع على رأس عضده مثل حلمة الثدي عليه شعرات بيض»(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت میں سے کچھ لوگ نکلیں گے جو قرآن پڑھیں گے، تمہاری قراءت ان کی قراءت کے آگے کچھ نہیں ہو گی، اور نہ تمہاری نماز ان کی نماز کے آگے، اور نہ تمہارا روزہ ان کے روزے کے آگے۔ وہ قرآن پڑھیں گے، سمجھیں گے کہ یہ ان کے حق میں ہے، حالانکہ وہ ان کے خلاف ہو گا۔ ان کی نماز ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی، وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے پار نکل جاتا ہے۔ اگر وہ لشکر جو انہیں پائے گا اسے یہ معلوم ہو جائے کہ ان کے نبی ﷺ کی زبانی ان کے قتل کے بارے میں کیا اجر مقرر ہے تو وہ اسی پر بھروسہ کر کے عمل چھوڑ بیٹھیں۔ اور اس فرقے کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک آدمی ہو گا جس کا بازو ہو گا مگر اس میں کلائی نہیں ہو گی، اس کے بازو کے سرے پر چھاتی کی نوک جیسا ابھار ہو گا جس پر سفید بال ہوں گے۔“