حدیث نمبر: 8005
«يأتي على الناس زمان يغزوفئام من الناس فيقال: فيكم من صاحب الرسول؟ فيقولون: نعم فيفتح لهم ثم يأتي على الناس زمان فيغزوا فئام من الناس فيقال لهم: هل فيكم من صاحب أصحاب الرسول؟ فيقولون: نعم فيفتح لهم ثم يأتي على الناس زمان فيغزوفئام من الناس فيقال لهم: هل فيكم من صاحب من صاحب أصحاب الرسول؟ فيقولون: نعم فيفتح لهم»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگوں کا ایک گروہ جہاد کرے گا تو ان سے پوچھا جائے گا: کیا تم میں رسول اللہ ﷺ کا کوئی صحابی موجود ہے؟ وہ کہیں گے: ہاں۔ تو ان کے لیے فتح کی راہ کھول دی جائے گی۔ پھر لوگوں پر ایک اور زمانہ آئے گا کہ لوگوں کا ایک گروہ جہاد کرے گا تو ان سے پوچھا جائے گا: کیا تم میں کسی صحابی کا کوئی ساتھی موجود ہے؟ وہ کہیں گے: ہاں۔ تو ان کے لیے فتح کی راہ کھول دی جائے گی۔ پھر لوگوں پر ایک اور زمانہ آئے گا کہ لوگوں کا ایک گروہ جہاد کرے گا تو ان سے پوچھا جائے گا: کیا تم میں کسی صحابی کے ساتھی کا کوئی ساتھی موجود ہے؟ وہ کہیں گے: ہاں۔ تو ان کے لیے فتح کی راہ کھول دی جائے گی۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8005
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي سعيد.