صحیح الجامع الصغیر
حرف الياء— حرف یا
الأحاديث المبدوءة بحرف الياء باب: حرف یا سے شروع ہونے والی احادیث
«يأتي الدجال وهو محرم عليه أن يدخل نقاب المدينة فينزل بعض السباخ التي بالمدينة فيخرج إليه يومئذ رجل هو خير الناس أو من خير الناس فيقول له: أشهد أنك الدجال الذي حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثه فيقول الدجال: أرأيتم إن قتلت هذا ثم أحييته؟ هل تشكون في الأمر؟ فيقولون: لا فيقتله ثم يحييه فيقول حين يحييه: والله ما كنت قط أشد بصيرة مني اليوم فيريد الدجال أن يقتله فلا يسلط عليه»(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دجال آئے گا اور اس پر مدینہ کے کسی راستے سے داخل ہونا حرام ہو گا، تو وہ مدینہ کے قریب کسی کھارے میدان میں اترے گا، اس دن اس کی طرف سب سے بہترین آدمی یا بہترین لوگوں میں سے ایک آدمی نکلے گا اور اس سے کہے گا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تم وہی دجال ہو جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتایا تھا۔ دجال کہے گا: بتاؤ اگر میں اسے قتل کر کے دوبارہ زندہ کر دوں تو کیا تمہیں اس معاملے میں شک رہے گا؟ لوگ کہیں گے: نہیں۔ تو وہ اسے قتل کر کے دوبارہ زندہ کر دے گا، تو وہ زندہ ہونے والا شخص زندہ ہونے پر کہے گا: اللہ کی قسم! آج سے پہلے مجھے تمہاری اتنی سمجھ کبھی نہیں آئی تھی۔ تو دجال اسے دوبارہ قتل کرنا چاہے گا مگر اسے اس پر قابو نہیں دیا جائے گا۔“