حدیث نمبر: 7883
«يا أيها الناس! ردوا على ردائي فوالله لوأن لي بعدد شجر تهامة نعما لقسمته عليكم ثم لا تلقوني بخيلا ولا جبانا ولا كذوبا ; يا أيها الناس! ليس لي من هذا الفيء شيء ولا هذه الوبرة إلا الخمس والخمس مردود فيكم فأدوا الخياط والمخيط فإن الغلول يكون على أهله عارا ونارا وشنارا يوم القيامة»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے لوگو! میری چادر مجھے واپس کر دو، اللہ کی قسم! اگر میرے پاس تہامہ کے درختوں کی تعداد کے برابر بھی مویشی ہوں تو میں انہیں تم میں تقسیم کر دوں، پھر تم مجھے نہ بخیل پاؤ گے، نہ بزدل اور نہ جھوٹا۔ اے لوگو! اس مالِ غنیمت میں سے، حتیٰ کہ اس بال کے برابر بھی، میرے لیے کچھ حلال نہیں سوائے پانچویں حصے کے، اور وہ پانچواں حصہ بھی تمہاری طرف لوٹا دیا جاتا ہے، پس سوئی اور دھاگہ تک واپس کر دو، کیونکہ خیانت اس کے کرنے والے کے لیے قیامت کے دن رسوائی، آگ اور بدنامی ہے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7883
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ن] عن ابن عمرو. الصحيحة ١٩٧٣، المشكاة ٤٠٢٥.