حدیث نمبر: 7880
" يا أيها الناس! أي يوم أحرم؟ أي يوم أحرم؟ أي يوم أحرم؟ قالوا: يوم الحج الأكبر قال: فإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في بلدكم هذا في شهركم هذا ألا لا يجني جان إلا على نفسه ألا ولا يجني والد على ولده ولا ولد على والده ; ألا إن الشيطان قد أيس أن يعبد في بلدكم هذا أبدا ولكن ستكون له طاعة في بعض ما تحتقرون من أعمالكم فيرضى بها ألا إن المسلم أخو المسلم فليس يحل لمسلم من أخيه شيء إلا ما أحل من نفسه ألا وإن كل ربا في الجاهلية موضوع لكم رءوس أموالكم لا تظلمون ولا تظلمون غير ربا العباس بن عبد المطلب فإنه موضوع كله وإن كل دم كان في الجاهلية موضوع وأول دم أضع من دم الجاهلية دم الحارث بن عبد المطلب ألا واستوصوا بالنساء خيرا فإنما هن عوان عندكم ليس تملكون منهن شيئا غير ذلك إلا أن يأتين بفاحشة مبينة فإن فعلن فاهجروهن في المضاجع واضربوهن ضربا غير مبرح فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا ألا وإن لكم على نسائكم حقا ولنسائكم عليكم حقا فأما حقكم على نسائكم فلا يوطئن فرشكم من تكرهون ولا يأذن في بيوتكم لمن تكرهون ألا وإن حقهن عليكم أن تحسنوا إليهن في كسوتهن وطعامهن"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے لوگو! کون سا دن سب سے زیادہ حرمت والا ہے؟ کون سا دن سب سے زیادہ حرمت والا ہے؟ کون سا دن سب سے زیادہ حرمت والا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: حج اکبر کا دن۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارے اس دن کی، تمہارے اس شہر میں، تمہارے اس مہینے میں حرمت ہے۔ خبردار! کوئی جرم کرنے والا اپنے سوا کسی اور پر اس کا وبال نہیں ڈال سکتا، خبردار! نہ باپ اپنی اولاد کے جرم کا ذمہ دار ہے اور نہ اولاد اپنے باپ کے جرم کی۔ خبردار! شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ تمہارے اس شہر میں کبھی اس کی پرستش کی جائے، لیکن وہ تمہارے حقیر سمجھے جانے والے کچھ اعمال میں اس کی اطاعت کروانے میں کامیاب ہو جائے گا اور اسی پر راضی ہو جائے گا۔ خبردار! مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، کسی مسلمان کے لیے اپنے بھائی کی کوئی چیز حلال نہیں سوائے اس کے جو وہ خوشی سے دے دے۔ خبردار! جاہلیت کا ہر سود ختم کر دیا گیا ہے، تمہیں اپنے اصل مال ملیں گے، نہ تم ظلم کرو گے اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا، سوائے عباس بن عبدالمطلب کے سود کے، وہ بھی سارا ختم کیا جاتا ہے۔ اور جاہلیت کا ہر خون معاف کر دیا گیا ہے، اور جاہلیت کے خون میں سے سب سے پہلا خون جو میں معاف کرتا ہوں وہ حارث بن عبدالمطلب کا خون ہے۔ خبردار! عورتوں کے بارے میں بھلائی کی وصیت قبول کرو، کیونکہ وہ تمہارے پاس قیدیوں کی طرح ہیں، تمہیں ان پر اس کے سوا کوئی اختیار نہیں، سوائے اس کے کہ وہ کھلی بے حیائی کریں، پس اگر وہ ایسا کریں تو انہیں بستروں میں الگ کر دو اور انہیں ہلکی مار مارو جس سے چوٹ نہ لگے، پھر اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو ان پر ظلم کا کوئی راستہ تلاش نہ کرو۔ خبردار! تمہارا اپنی عورتوں پر حق ہے اور تمہاری عورتوں کا تم پر حق ہے۔ تمہارا ان پر حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر ایسے کسی کو نہ آنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو، اور تمہارے گھروں میں ایسے کسی کو داخل نہ ہونے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو۔ خبردار! ان کا تم پر حق یہ ہے کہ تم ان کے کپڑے اور کھانے میں ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7880
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت ن هـ] عن عمرو بن الأحوص. المشكاة ٢٦٧٠، الإرواء ٢٠٣٠.