صحیح الجامع الصغیر
حرف الياء— حرف یا
الأحاديث المبدوءة بحرف الياء باب: حرف یا سے شروع ہونے والی احادیث
حدیث نمبر: 7843
" يا أبي: إني أقرئت القرآن فقيل لي: على حرف أو حرفين؟ فقال الملك الذي معي: قل على حرفين قلت: على حرفين فقيل لي: على حرفين أو ثلاثة؟ فقال الملك الذي معي قل: على ثلاثة قلت: على ثلاثة حتى بلغ سبعة أحرف ثم قال: ليس منها إلا شاف كاف إن قلت: سميعا عليما وإن قلت: عزيزا حكيما ما لم تختم آية عذاب برحمة أو آية رحمة بعذاب "ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے ابی! مجھے قرآن پڑھایا گیا تو مجھ سے کہا گیا: ایک قراءت پر یا دو پر؟ تو میرے ساتھ موجود فرشتے نے کہا: دو پر کہو۔ میں نے کہا: دو پر۔ پھر مجھ سے کہا گیا: دو پر یا تین پر؟ تو میرے ساتھ موجود فرشتے نے کہا: تین پر کہو۔ میں نے کہا: تین پر، یہاں تک کہ سات قراءتوں تک پہنچ گیا۔ پھر فرمایا گیا: ان میں سے ہر ایک شفا بخش اور کافی ہے، خواہ تم آیت کے آخر میں سمیعاً علیماً کہو یا عزیزاً حکیماً کہو، جب تک تم عذاب کی آیت کو رحمت پر یا رحمت کی آیت کو عذاب پر ختم نہ کرو۔“