صحیح الجامع الصغیر
حرف الياء— حرف یا
الأحاديث المبدوءة بحرف الياء باب: حرف یا سے شروع ہونے والی احادیث
«يا أبا ذر! أرأيت إن أصاب الناس جوع شديد لا تستطيع أن تقوم من فراشك إلى مسجدك كيف تصنع؟ تعفف ; يا أبا ذر؟ أرأيت إن أصاب الناس موت شديد يكون البيت فيه بالعبد - يعني القبر - كيف تصنع؟ اصبر ; يا أبا ذر: أرأيت إن قتل الناس بعضهم بعضا حتى تغرق حجارة الزيت من الدماء كيف تصنع؟ اقعد في بيتك وأغلق عليك بابك قال: فإن لم أترك؟ قال: فأت من كنت معه فكن فيهم قال: فآخذ سلاحي؟ قال: إذن تشاركهم فيما هم فيه ولكن إن خشيت أن يردعك شعاع السيف فألق من طرف ردائك على وجهك كي يبوء بإثمه وإثمك ويكون من أصحاب النار»(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے ابوذر! تمہارا کیا خیال ہے اگر لوگوں کو شدید بھوک لاحق ہو جائے، یہاں تک کہ تم اپنے بستر سے اٹھ کر اپنی مسجد تک بھی نہ جا سکو تو تم کیا کرو گے؟ (فرمایا) سوال کرنے سے بچو۔ اے ابوذر! تمہارا کیا خیال ہے اگر لوگوں میں شدید موت واقع ہو جائے یہاں تک کہ ایک گھر (قبر) ایک غلام (کی قیمت) میں ملے تو تم کیا کرو گے؟ (فرمایا) صبر کرو۔ اے ابوذر! تمہارا کیا خیال ہے اگر لوگ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنے لگیں یہاں تک کہ حرہ کے پتھر خون سے ڈوب جائیں تو تم کیا کرو گے؟ (فرمایا) اپنے گھر میں بیٹھ جاؤ اور اپنا دروازہ بند کر لو۔ ابوذر نے عرض کیا: اگر مجھے چھوڑا نہ جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تو جس کے ساتھ ہو اس کے پاس چلے جاؤ اور انہی میں شامل ہو جاؤ۔ عرض کیا: تو کیا میں اپنا ہتھیار اٹھا لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر تو تم بھی اس (فتنے) میں ان کے شریک بن جاؤ گے، لیکن اگر تمہیں خدشہ ہو کہ تلوار کی چمک تمہیں (لڑنے پر مجبور کر دے گی) تو اپنی چادر کا کنارہ اپنے چہرے پر ڈال لو تاکہ وہ (قاتل) اپنے گناہ اور تمہارے قتل کے گناہ کے ساتھ لوٹے اور جہنمیوں میں سے ہو جائے۔“