حدیث نمبر: 7725
«لا يصلح لبشر أن يسجد لبشر ولو صلح أن يسجد بشر لبشر لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها من عظم حقه عليها والذي نفسي بيده لوأن من قدمه إلى مفرق رأسه قرحة تنبجس بالقيح والصديد ثم أقبلت تلحسه ما أدت حقه»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کسی انسان کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ کسی دوسرے انسان کو سجدہ کرے، اور اگر کسی انسان کے لیے کسی دوسرے انسان کو سجدہ کرنا درست ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، اس کے حق کی عظمت کی وجہ سے جو اس پر ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر خاوند کے پاؤں سے لے کر سر کی مانگ تک زخم ہو جس سے پیپ اور خون بہہ رہا ہو، پھر بیوی اسے چاٹنا شروع کر دے، تب بھی وہ اس کا حق ادا نہیں کر سکتی۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7725
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن] عن أنس. الترغيب ٣/٧٥.