حدیث نمبر: 6297
«من سلك طريقا يطلب فيه علما سلك الله به طريقا من طرق الجنة وإن الملائكة لتضع أجنحتها لطالب العلم رضا بما يصنع وإن العالم ليستغفر له من في السموات ومن في الأرض والحيتان في جوف الماء وإن فضل العالم على العابد كفضل القمر ليلة البدر على سائر الكواكب وإن العلماء ورثة الأنبياء وإن الأنبياء لم يورثوا دينارا ولا درهما إنما ورثوا العلم فمن أخذه أخذ بحظ وافر»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص کسی ایسے راستے پر چلے جس میں وہ علم حاصل کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اسے جنت کے راستوں میں سے ایک راستہ آسان کر دیتا ہے، اور بےشک فرشتے طالب علم کے لیے اس کے عمل سے راضی ہو کر اپنے پر بچھا دیتے ہیں، اور بےشک عالم کے لیے آسمانوں اور زمین میں موجود مخلوقات اور پانی میں مچھلیاں تک استغفار کرتی ہیں، اور بےشک عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہے جیسے چودھویں رات کے چاند کی باقی ستاروں پر فضیلت ہوتی ہے، اور بےشک علماء انبیاء کے وارث ہیں، اور انبیاء نے وراثت میں نہ دینار چھوڑا نہ درہم بلکہ انہوں نے علم کی وراثت چھوڑی، پس جس نے اسے حاصل کر لیا اس نے بھرپور حصہ پا لیا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6297
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ٤ حب] عن أبي الدرداء. صحيح الترغيب ٦٨.