حدیث نمبر: 5585
«ما بين النفختين أربعون ثم ينزل الله من السماء ماء فينبتون كما ينبت البقل وليس من الإنسان شيء إلا يبلى إلا عظم واحد وهو: عجب الذنب منه خلق ومنه يركب يوم القيامة»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دونوں صور کی پھونکوں کے درمیان چالیس کا وقفہ ہے، پھر اللہ آسمان سے پانی برسائے گا تو لوگ اس طرح اگیں گے جیسے سبزی اگتی ہے، اور انسان کی کوئی چیز ایسی نہیں جو بوسیدہ نہ ہو، سوائے ایک ہڈی کے، اور وہ ریڑھ کی ہڈی کا آخری سرا ہے، اسی سے تخلیق ہوئی اور اسی سے قیامت کے دن پوری مخلوق دوبارہ بنائی جائے گی۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5585
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٢٠٦٦.