صحیح الجامع الصغیر
حرف اللام— حرف لام
الأحاديث المبدوءة بحرف اللام باب: حرف لام سے شروع ہونے والی احادیث
«لقد لقيت من قومك وكان أشد ما لقيت منهم يوم العقبة إذ عرضت نفسي على ابن عبد ياليل بن عبد كلال فلم يجبني إلى ما أردت فانطلقت وأنا مهموم على وجهي فلم أستفق إلا وأنا بقرن الثعالب فرفعت رأسي فإذا أنا بسحابة قد أظلتني فنظرت فإذا فيها جبريل فناداني فقال: إن الله قد سمع كلام قومك لك وما ردوا عليك وقد بعث إليك ملك الجبال لتأمره بما شئت فيهم فناداني ملك الجبال فسلم علي ثم قال يا محمد! فقال ذلك فما شئت إن شئت أطبق عليهم الأخشبين قلت: بل أرجوأن يخرج الله من أصلابهم من يعبد الله وحده لا يشرك به شيئا»(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے تمہاری قوم سے بہت تکلیفیں اٹھائی ہیں، اور ان میں سب سے سخت تکلیف مجھے عقبہ کے دن اٹھانی پڑی، جب میں نے اپنے آپ کو ابن عبد یالیل بن عبد کلال کے سامنے پیش کیا تو اس نے میری بات نہ مانی، تو میں غمگین حالت میں چل پڑا، مجھے ہوش تب آیا جب میں قرن الثعالب پہنچ چکا تھا، میں نے اپنا سر اٹھایا تو دیکھا کہ ایک بادل نے مجھ پر سایہ کر رکھا ہے، میں نے دیکھا تو اس میں جبریل تھے، انہوں نے مجھے پکارا اور کہا: اللہ تعالیٰ نے تمہاری قوم کی وہ بات سن لی ہے جو انہوں نے تمہیں کہی اور جو جواب تمہیں دیا، اور اس نے تمہاری طرف پہاڑوں کے فرشتے کو بھیجا ہے تاکہ تم اس کے بارے میں جو چاہو حکم دو۔ پھر پہاڑوں کے فرشتے نے مجھے پکارا، مجھے سلام کیا، پھر کہا: اے محمد! یہ بات ایسے ہی ہے، اب جو چاہو حکم دو، اگر تم چاہو تو میں ان پر دونوں پہاڑ ملا دوں۔ میں نے کہا: نہیں، بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسلوں میں سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو صرف اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔“