صحیح الجامع الصغیر
حرف الكاف— حرف کاف
الأحاديث المبدوءة بحرف الكاف باب: حرف کاف سے شروع ہونے والی احادیث
«كان رجلان في بني إسرائيل متواخيان وكان أحدهما مذنبا والآخر مجتهدا في العبادة وكان لا يزال المجتهد يرى الآخر على الذنب فيقول: أقصر فوجده يوما على ذنب فقال له: أقصر فقال: خلني وربي أبعثت علي رقيبا؟ ! فقال: والله لا يغفر الله لك أو لا يدخلك الله الجنة فقبض روحهما فاجتمعا عند رب العالمين فقال لهذا المجتهد: أكنت بي عالما أو كنت على ما في يدي قادرا؟ ! وقال للمذنب: اذهب فادخل الجنة برحمتي وقال للآخر: اذهبوا به إلى النار»(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بنی اسرائیل میں دو آدمی آپس میں بھائی بھائی بنے ہوئے تھے، ان میں سے ایک گناہ گار تھا اور دوسرا عبادت میں محنت کرنے والا تھا۔ عبادت گزار ہمیشہ دوسرے کو گناہ پر دیکھ کر کہتا: باز آ جاؤ۔ ایک دن اس نے اسے پھر گناہ پر پایا تو کہا: باز آ جاؤ۔ اس نے کہا: مجھے اور میرے رب کو چھوڑ دو، کیا تمہیں مجھ پر نگران بنا کر بھیجا گیا ہے؟! تو اس (عبادت گزار) نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ تجھے کبھی نہیں بخشے گا یا تجھے کبھی جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ چنانچہ ان دونوں کی روحیں قبض کر لی گئیں اور وہ دونوں رب العالمین کے حضور اکٹھے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس عبادت گزار سے فرمایا: کیا تجھے میرا علم تھا یا تو اس پر قادر تھا جو میرے ہاتھ میں ہے؟! اور گناہ گار سے فرمایا: جا، میری رحمت کے سبب جنت میں داخل ہو جا۔ اور دوسرے کے بارے میں فرمایا: اسے جہنم کی طرف لے جاؤ۔“