حدیث نمبر: 4375M
"قد عفوت عن الخيل والرقيق فهاتوا صدقة الرقة والرقة: الدراهم المضروبة. من كل أربعين درهما درهم وليس في تسعين ومائة شيء فإذا بلغت مائتين ففيها خمسة دراهم فما زاد فعلى حساب ذلك. وفي الغنم في كل أربعين شاة شاة فإن لم يكن إلا تسع وثلاثون فليس عليك فيها شيء. وفي البقر في كل ثلاثين تبيع وفي الأربعين مسنة وليس في العوامل شيء. وفي خمس وعشرين من الإبل خمسة من الغنم فإذا زادت واحدة ففيها ابنة مخاض فإن لم تكن ابنة مخاض فابن لبون ذكر إلى خمس وثلاثين فإذا زادت واحدة ففيها بنت لبون إلى خمس وأربعين فإذا زادت واحدة ففيها حقة طروقة الجمل إلى ستين فإذا كانت واحدة وتسعين ففيها حقتان طروقتا الجمل إلى عشرين ومائة فإن كانت الإبل أكثر من ذلك ففي كل خمسين حقة. ولا يفرق بين مجتمع ولا يجمع بين متفرق خشية الصدقة. ولا يؤخذ في الصدقة هرمة ولا ذات عوار ولا تيس إلا أن يشاء المصدق. وفي النبات ما سقته الأنهار أو سقت السماء العشر وما سقي بالغرب ففيه نصف العشر"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے گھوڑوں اور غلاموں (کی زکوٰۃ) معاف کر دی ہے، اب تم چاندی (روپے) کی زکوٰۃ لے آؤ۔ اور رقہ سے مراد ڈھلے ہوئے درہم ہیں۔ ہر چالیس درہم میں ایک درہم (زکوٰۃ) ہے، اور ایک سو نوے (درہم) میں کچھ نہیں، پھر جب دو سو تک پہنچ جائیں تو ان میں پانچ درہم ہیں، اور جو اس سے زیادہ ہو وہ اسی حساب سے ہے۔ اور بکریوں میں ہر چالیس بکریوں میں ایک بکری ہے، اور اگر انتالیس ہی ہوں تو ان میں کچھ نہیں۔ اور گائے میں ہر تیس میں ایک تبیع (ایک سالہ بچھڑا) ہے اور چالیس میں ایک مسنہ (دو سالہ بچھڑی) ہے، اور کام کاج میں لگے ہوئے جانوروں میں کچھ نہیں۔ اور پچیس اونٹوں میں پانچ بکریاں ہیں، اور اگر ایک اونٹ زیادہ ہو جائے تو اس میں ایک بنتِ مخاض (دو سالہ اونٹنی) ہے، اور اگر بنتِ مخاض نہ ہو تو ابن لبون نر (تین سالہ نر اونٹ) ہے، یہاں تک کہ پینتیس تک پہنچ جائیں۔ پھر جب ایک زیادہ ہو جائے تو اس میں بنتِ لبون (تین سالہ اونٹنی) ہے، یہاں تک کہ پینتالیس تک۔ پھر جب ایک زیادہ ہو جائے تو اس میں ایک حقہ (چار سالہ اونٹنی جو اونٹ کے قابل ہو) ہے، یہاں تک کہ ساٹھ تک۔ پھر جب اکیانوے ہو جائیں تو ان میں دو حقے (چار سالہ اونٹنیاں جو اونٹ کے قابل ہوں) ہیں، یہاں تک کہ ایک سو بیس تک۔ پھر اگر اونٹ اس سے زیادہ ہو جائیں تو ہر پچاس میں ایک حقہ ہے۔ اور (زکوٰۃ کے ڈر سے) جمع شدہ (مال) کو الگ الگ نہیں کیا جائے گا اور نہ الگ الگ (مال) کو اکٹھا کیا جائے گا۔ اور صدقے میں نہ بوڑھا جانور لیا جائے گا، نہ عیب دار، اور نہ سانڈ (نر بکرا) البتہ اگر زکوٰۃ وصول کرنے والا خود چاہے تو لے سکتا ہے۔ اور پیداوار میں، جسے نہروں یا آسمان (بارش) نے سیراب کیا ہو اس میں دسواں حصہ ہے، اور جسے ڈول سے سینچا گیا ہو اس میں بیسواں حصہ (نصف عشر) ہے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4375M
تخریج حدیث [حم د] عن علي. تخريج المشكاة ١٧٩٩.