حدیث نمبر: 4357
«قام موسى خطيبا في بني إسرائيل فسئل أي الناس أعلم؟ فقال: أنا فعتب الله عليه إذ لم يرد العلم إليه وأوحى الله إليه: إن لي عبدا بمجمع البحرين هو أعلم منك قال: يا رب! وكيف لي به؟ فقيل: احمل حوتا في مكتل فإذا فقدته فهو ثم فانطلق وانطلق معه فتاه يوشع بن نون وحملا حوتا في مكتل حتى كانا عند الصخرة فوضعا رءوسهما فناما فانسل الحوت من المكتل فاتخذ سبيله في البحر سربا وكان لموسى وفتاه عجبا فانطلقا بقية يومهما وليلتهما فلما أصبحا قال موسى لفتاه: {آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَباً} ولم يجد موسى مسا من النصب حتى جأوز المكان الذي أمره الله به فقال له فتاه: {أَرَأَيْتَ إِذْ أويْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ} قال موسى: {ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصاً} فلما انتهيا إلى الصخرة إذا رجل مسجى بثوب فسلم موسى فقال الخضر: أنى بأرضك السلام؟ قال: أنا موسى قال: موسى بني إسرائيل؟ قال: نعم» قال: {هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْداً} ؟ {قَالَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْراً} يا موسى إني على علم من علم الله تعالى علمنيه لا تعلمه أنت وأنت على علم من علم الله تعالى علمكه الله لا أعلمه {قَالَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِراً وَلا أَعْصِي لَكَ أَمْراً} فانطلقا يمشيان على الساحل فمرت سفينة فكلموهم أن يحملوهما فعرفوا الخضر فحملوهما بغير نول وجاء عصفور فوقع على حرف السفينة فنقر نقرة أو نقرتين في البحر فقال الخضر: يا موسى ما نقص علمي وعلمك من علم الله إلا كنقرة هذا العصفور في هذا البحر! فعمد الخضر إلى لوح من ألواح السفينة فنزعه فقال موسى: قوم حملونا بغير نول عمدت إلى سفينتهم فخرقتها لتغرق أهلها؟ {قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْراً} . {قَالَ لا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ} فكانت الأولى من موسى نسيانا فانطلقا فإذا غلام يلعب مع الغلمان فأخذ الخضر برأسه من أعلاه فاقتلع رأسه بيده فقال له موسى: {أَقَتَلْتَ نَفْساً زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ} {قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْراً} ، {فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَاراً يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ} قال الخضر بيده {فَأَقَامَهُ} فقال موسى: {لَوشِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْراً، قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ} ، يرحم الله موسى لوددنا لوصبر حتى يقص علينا من أمرهما "
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو ان سے پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ علم والا کون ہے؟ انہوں نے کہا: میں ہوں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب فرمایا کیونکہ انہوں نے علم کو اللہ کی طرف نہیں لوٹایا، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ میرا ایک بندہ دو سمندروں کے سنگم پر ہے جو تجھ سے زیادہ علم رکھتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: اے رب! میں اس تک کیسے پہنچوں؟ ان سے کہا گیا: ایک مچھلی ٹوکرے میں لے لو، جب تم اسے گم پاؤ تو وہی جگہ ہے۔ چنانچہ وہ روانہ ہوئے اور ان کے ساتھ ان کا خادم یوشع بن نون بھی روانہ ہوا، دونوں نے ایک مچھلی ٹوکرے میں اٹھا رکھی تھی، یہاں تک کہ وہ ایک چٹان کے پاس پہنچے اور اپنے سر رکھ کر سو گئے، تو مچھلی ٹوکرے سے نکل کر پھسلتی ہوئی سمندر میں اپنا راستہ بنا کر چل دی۔ یہ بات موسیٰ علیہ السلام اور ان کے خادم کے لیے تعجب خیز تھی۔ وہ اپنے باقی دن اور رات چلتے رہے، جب صبح ہوئی تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم سے کہا: ہمارا ناشتہ لاؤ، ہمیں اس سفر میں بڑی مشقت اٹھانی پڑی ہے۔ اور موسیٰ علیہ السلام کو اس وقت تک تھکاوٹ محسوس نہیں ہوئی تھی جب تک وہ اس جگہ سے آگے نہیں نکل گئے جس کا اللہ نے انہیں حکم دیا تھا۔ ان کے خادم نے کہا: کیا آپ نے دیکھا، جب ہم چٹان کے پاس ٹھہرے تھے تو میں مچھلی کا ذکر بھول گیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: یہی تو ہے جس کی ہمیں تلاش تھی۔ چنانچہ وہ دونوں اپنے نشانِ قدم پر واپس لوٹے۔ جب وہ چٹان کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ ایک آدمی کپڑا اوڑھے لیٹا ہوا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سلام کیا تو خضر علیہ السلام نے کہا: تمہاری اس سرزمین میں سلام کہاں سے؟ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: میں موسیٰ ہوں۔ انہوں نے پوچھا: بنی اسرائیل کے موسیٰ؟ کہا: جی ہاں۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے اس علم میں سے کچھ سکھائیں جو آپ کو سکھایا گیا ہے؟ خضر علیہ السلام نے کہا: آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے۔ اے موسیٰ! میں اللہ کے علم میں سے ایک ایسے علم پر ہوں جو اللہ نے مجھے سکھایا ہے اور آپ اسے نہیں جانتے، اور آپ اللہ کے علم میں سے ایک ایسے علم پر ہیں جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے اور میں اسے نہیں جانتا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ مجھے، اللہ نے چاہا تو، صابر پائیں گے اور میں کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ چنانچہ وہ دونوں ساحل پر چلنے لگے تو ایک کشتی گزری، انہوں نے کشتی والوں سے کہا کہ وہ انہیں سوار کر لیں۔ کشتی والوں نے خضر علیہ السلام کو پہچان لیا تو بغیر کسی کرایے کے انہیں سوار کر لیا۔ اتنے میں ایک چڑیا آئی اور کشتی کے کنارے بیٹھ کر اس نے سمندر میں ایک یا دو چونچ ماریں۔ خضر علیہ السلام نے کہا: اے موسیٰ! میرے اور تمہارے علم نے اللہ کے علم میں سے اتنی ہی کمی کی ہے جتنی اس چڑیا کی چونچ نے اس سمندر میں کی ہے۔ پھر خضر علیہ السلام نے کشتی کے ایک تختے کی طرف بڑھ کر اسے اکھاڑ دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ان لوگوں نے ہمیں بغیر کرائے کے سوار کیا اور آپ نے ان کی کشتی میں سوراخ کر دیا تاکہ اس کے سواروں کو ڈبو دیں؟ خضر علیہ السلام نے کہا: کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے؟ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: میری اس بھول پر مجھ سے مؤاخذہ نہ کیجیے۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام کی یہ پہلی بات بھول کی وجہ سے تھی۔ پھر وہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ ایک لڑکا دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، تو خضر علیہ السلام نے اس کا سر پکڑا اور اپنے ہاتھ سے اسے اکھاڑ دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: کیا آپ نے ایک بےگناہ جان کو بغیر کسی جان کے بدلے قتل کر دیا؟ خضر علیہ السلام نے کہا: کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے؟ پھر وہ دونوں چلتے رہے یہاں تک کہ ایک بستی والوں کے پاس پہنچے تو ان سے کھانا مانگا، انہوں نے انہیں مہمان بنانے سے انکار کر دیا۔ وہاں انہیں ایک دیوار ملی جو گرا چاہتی تھی، تو خضر علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے اسے سیدھا کھڑا کر دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اگر آپ چاہتے تو اس پر کچھ اجرت لے لیتے۔ خضر علیہ السلام نے کہا: یہ میرے اور آپ کے درمیان جدائی ہے۔ اللہ موسیٰ پر رحم فرمائے، ہماری خواہش تھی کہ وہ صبر کرتے یہاں تک کہ وہ ہمیں ان دونوں کا مزید قصہ سناتے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4357
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ت ن] عن أبي. مختصر مسلم ١٦١١.