صحیح الجامع الصغیر
حرف القاف— حرف قاف
الأحاديث المبدوءة بحرف القاف باب: حرف قاف سے شروع ہونے والی احادیث
«قال الله تعالى: كل عمل ابن آدم له إلا الصيام فإنه لي وأنا أجزي به والصيام جنة وإذا كان يوم صوم أحدكم فلا يرفث ولا يصخب وإن سابه أحد أو قاتله فليقل: إني امرؤ صائم والذي نفس محمد بيده لخلوف فم الصائم عند الله أطيب من ريح المسك وللصائم فرحتان يفرحهما: إذا أفطر فرح بفطره وإذا لقي ربه فرح بصومه»(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم کا ہر عمل اسی کے لیے ہے سوائے روزے کے، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ روزہ ڈھال ہے، پس جب تم میں سے کسی کا روزے کا دن ہو تو نہ فحش گوئی کرے اور نہ شور و غل مچائے، اور اگر کوئی اسے گالی دے یا اس سے لڑے تو وہ کہہ دے: میں روزہ دار ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ اور روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں جن سے وہ خوش ہوتا ہے: جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو اپنے افطار پر خوش ہوتا ہے، اور جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے پر خوش ہو گا۔“