صحیح الجامع الصغیر
حرف القاف— حرف قاف
الأحاديث المبدوءة بحرف القاف باب: حرف قاف سے شروع ہونے والی احادیث
«قال الله تعالى: قسمت الصلاة بيني وبين عبدي نصفين ولعبدي ما سأل فإذا قال العبد: {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} قال الله: حمدني عبدي فإذا قال: {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} قال الله: أثنى علي عبدي فإذا قال: {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} قال: مجدني عبدي فإذا قال: {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} قال: هذا بيني وبين عبدي ولعبدي ما سأل فإذا قال: {اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ. صراط صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ} قال: هذا لعبدي ولعبدي ما سأل»(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز (سورۃ فاتحہ) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کیا ہے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔ پس جب بندہ کہتا ہے: ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے“ تو اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تعریف کی۔ اور جب وہ کہتا ہے: ”نہایت مہربان، رحم فرمانے والا“ تو اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری ثنا کی۔ اور جب وہ کہتا ہے: ”روزِ جزا کا مالک“ تو اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری بڑائی بیان کی۔ اور جب وہ کہتا ہے: ”ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھی سے مدد مانگتے ہیں“ تو اللہ فرماتا ہے: یہ (آیت) میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔ اور جب وہ کہتا ہے: ”ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت دے، ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا، نہ کہ ان کا جن پر غضب کیا گیا اور نہ گمراہوں کا“ تو اللہ فرماتا ہے: یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔“