حدیث نمبر: 4269
"فيما دون خمس وعشرين من الإبل في كل خمس ذود شاة فإذا بلغت خمسا وعشرين ففيها ابنة مخاض إلى خمس وثلاثين وإن لم تكن ابنة مخاض فابن لبون ذكر فإن بلغت ستا وثلاثين ففيها ابنة لبون إلى خمس وأربعين فإذا بلغت ستة وأربعين ففيها حقة طروقة الفحل إلى ستين فإذا بلغت واحدا وستين ففيها جذعة إلى خمسة وسبعين فإذا بلغت ستة وسبعين ففيها بنتا لبون إلى تسعين فإذا بلغت واحدا وتسعين ففيها حقتان طروقتا الفحل إلى عشرين ومائة فإذا زادت على عشرين ومائة ففي كل أربعين ابنة لبون وفي كل خمسين حقة ; فإذا تباين أسنان الإبل في فرائض الصدقات فمن بلغت عنده صدقة الجذعة وليست عنده جذعة وعنده حقة فإنها تقبل منه ويجعل معها شاتين إن استيسرتا له أو عشرين درهما ومن بلغت عنده صدقة الحقة وليست عنده إلا جذعة فإنها تقبل منه ويعطيه المصدق عشرين درهما أو شاتين ومن بلغت عنده صدقة الحقة وليست عنده صدقة ابنة لبون وليست عنده إلا حقة فإنه تقبل منه ويعطيه المصدق عشرين درهما أو شاتين ومن بلغت عنده صدقة بنت لبون وليست عنده ابنة لبون وعنده ابنة مخاض فإنها تقبل منه ويجعل معها شاتين إن استيسرتا له أو عشرين درهما ومن بلغت صدقته بنت مخاض وليس عنده إلا ابن لبون ذكر فإنه يقبل منه وليس معه شيء ومن لم يكن عنده إلا أربع من الإبل فليس فيها شيء إلا أن يشاء ربها. وفي صدقة الغنم في سائمتها إذا كانت أربعين ففيها شاة إلى عشرين ومائة فإذا زادت ففيها شاتان إلى مائتين فإذا زادت واحدة ففيها ثلاث شياه إلى ثلاثمائة فإذا زادت ففي كل مائة شاة. ولا يؤخذ في الصدقة هرمة ولا ذات عوار ولا تيس إلا أن يشاء المصدق ولا يجمع بين متفرق ولا يفرق بين مجتمع خشية الصدقة وما كان من خليطين فإنهما يتراجعان بينهما بالسوية. وإذا كانت سائمة الرجل ناقصة من أربعين شاة شاة واحدة فليس فيها شيء إلا أن يشاء ربها. وفي الرقة ربع العشر فإذا لم يكن المال إلا تسعين ومائة درهم فليس فيها شيء إلا أن يشاء ربها"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”پچیس اونٹوں سے کم میں ہر پانچ پر ایک بکری ہے۔ پس جب وہ پچیس تک پہنچ جائیں تو اس میں ایک سال کی اونٹنی ہے، یہاں تک کہ پینتیس تک، اور اگر بنتِ مخاض نہ ملے تو نر ابنِ لبون لیا جائے گا۔ پھر اگر وہ چھتیس تک پہنچ جائیں تو اس میں دو سالہ اونٹنی ہے، یہاں تک کہ پینتالیس تک۔ پھر اگر وہ چھیالیس تک پہنچ جائیں تو اس میں تین سالہ اونٹنی، جو نر کے قابل ہو، ہے، یہاں تک کہ ساٹھ تک۔ پھر اگر وہ اکسٹھ تک پہنچ جائیں تو اس میں چار سالہ اونٹنی ہے، یہاں تک کہ پچھتر تک۔ پھر اگر وہ چھہتر تک پہنچ جائیں تو اس میں دو بنتِ لبون ہیں، یہاں تک کہ نوے تک۔ پھر اگر وہ اکیانوے تک پہنچ جائیں تو اس میں دو حقے، نر کے قابل، ہیں، یہاں تک کہ ایک سو بیس تک۔ پھر اگر وہ ایک سو بیس سے زیادہ ہو جائیں تو ہر چالیس میں ایک بنتِ لبون اور ہر پچاس میں ایک حقہ ہے۔ اور اگر صدقے کے فرائض میں اونٹوں کی عمریں بالکل موافق نہ ملیں تو جس پر جذعہ کا صدقہ لازم ہو اور اس کے پاس جذعہ نہ ہو بلکہ حقہ ہو تو وہ اس سے قبول کیا جائے گا اور اس کے ساتھ دو بکریاں، اگر آسانی سے میسر ہوں، یا بیس درہم بھی دیے جائیں گے۔ اور جس پر حقہ کا صدقہ لازم ہو اور اس کے پاس جذعہ کے سوا کچھ نہ ہو تو وہ اس سے قبول کیا جائے گا اور زکوٰۃ لینے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس دے گا۔ اور جس پر حقہ کا صدقہ لازم ہو اور اس کے پاس بنتِ لبون کا صدقہ نہ ہو اور صرف حقہ ہو تو وہ اس سے قبول کیا جائے گا اور زکوٰۃ لینے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس دے گا۔ اور جس پر بنتِ لبون کا صدقہ لازم ہو اور اس کے پاس بنتِ لبون نہ ہو بلکہ بنتِ مخاض ہو تو وہ اس سے قبول کی جائے گی اور اس کے ساتھ دو بکریاں، اگر آسانی سے میسر ہوں، یا بیس درہم دیے جائیں گے۔ اور جس کا صدقہ بنتِ مخاض تک پہنچے اور اس کے پاس نر ابنِ لبون کے سوا کچھ نہ ہو تو وہ اس سے قبول کیا جائے گا اور اس کے ساتھ کچھ نہیں لیا جائے گا۔ اور جس کے پاس صرف چار اونٹ ہوں تو ان میں کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ان کا مالک خود چاہے۔ اور بکریوں کے صدقے میں، جب چرنے والی بکریاں چالیس ہوں تو اس میں ایک بکری ہے، یہاں تک کہ ایک سو بیس تک۔ پھر اگر زیادہ ہو جائیں تو اس میں دو بکریاں ہیں، یہاں تک کہ دو سو تک۔ پھر اگر ایک زیادہ ہو جائے تو اس میں تین بکریاں ہیں، یہاں تک کہ تین سو تک۔ پھر اگر زیادہ ہوں تو ہر سو میں ایک بکری ہے۔ اور صدقے میں نہ بوڑھا جانور لیا جائے، نہ عیب دار، اور نہ سانڈ، سوائے اس کے کہ زکوٰۃ لینے والا خود چاہے۔ اور صدقے سے بچنے کے ڈر سے الگ الگ مال کو اکٹھا نہ کیا جائے اور ملے ہوئے مال کو الگ الگ نہ کیا جائے، اور جو دو ساجھی داروں کا مال ہو تو وہ آپس میں برابری کے ساتھ حساب کریں گے۔ اور اگر کسی آدمی کی چرنے والی بکریاں چالیس سے ایک کم ہوں تو ان میں کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ان کا مالک خود چاہے۔ اور چاندی میں چالیسواں حصہ زکوٰۃ ہے، پس اگر مال ایک سو نوے درہم سے زیادہ نہ ہو تو اس میں کچھ نہیں سوائے اس کے کہ اس کا مالک خود چاہے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الفاء / حدیث: 4269
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ] عن أبي بكر. الإرواء ٧٩٢.