صحیح الجامع الصغیر
حرف الغين— حرف غین
الأحاديث المبدوءة بحرف الغين باب: حرف غین سے شروع ہونے والی احادیث
«غزا نبي من الأنبياء فقال لقومه: لا يتبعني منكم رجل ملك بضع امرأة وهو يريد أن يبني بها ولما يبن بها ولا أحد بنى بيوتا ولم يرفع سقوفها ولا أحد اشترى غنما أو خلفات وهو ينظر ولادها فغزا فدنا من القرية صلاة العصر أو قريبا من ذلك فقال للشمس: إنك مأمورة وأنا مأمور اللهم احبسها علينا فحبست حتى فتح الله عليه فجمع الغنائم فجاءت النار لتأكلها فلم تطعمها فقال: إن فيكم غلولا فليبايعني من كل قبيلة رجل فلزقت يد رجل بيده فقال: فيكم الغلول فلتبايعني قبيلتك فلزقت يد رجلين أو ثلاثة بيده فقال: فيكم الغلول: فجاءوا برأس مثل رأس بقرة من الذهب فوضعوها فجاءت النار فأكلتها ثم أحل الله لنا الغنائم رأى ضعفنا وعجزنا فأحلها لنا»(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”انبیاء میں سے ایک نبی نے جہاد کیا، تو انہوں نے اپنی قوم سے کہا: تم میں سے وہ آدمی میرے ساتھ نہ چلے جس نے کسی عورت سے نکاح کیا ہو اور وہ اس سے صحبت کرنا چاہتا ہو مگر ابھی صحبت نہ کی ہو، اور نہ وہ آدمی جس نے گھر بنائے ہوں مگر ابھی ان کی چھتیں نہ ڈالی ہوں، اور نہ وہ آدمی جس نے بکریاں یا حاملہ اونٹنیاں خریدی ہوں اور وہ ان کے بچے جننے کا انتظار کر رہا ہو۔ چنانچہ وہ جہاد کے لیے نکلے اور عصر کی نماز کے وقت یا اس کے قریب بستی کے قریب پہنچے، تو انہوں نے سورج سے کہا: تو بھی حکم کی پابند ہے اور میں بھی حکم کا پابند ہوں، اے اللہ! اسے ہمارے لیے روک دے۔ چنانچہ وہ رک گیا یہاں تک کہ اللہ نے انہیں فتح عطا فرمائی۔ پھر انہوں نے مالِ غنیمت جمع کیا تو آگ اسے کھانے کے لیے آئی مگر اس نے اسے نہ کھایا۔ تو انہوں نے کہا: تم میں خیانت ہے، پس ہر قبیلے سے ایک آدمی مجھ سے بیعت کرے۔ تو ایک آدمی کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چمٹ گیا۔ انہوں نے کہا: تمہارے قبیلے میں خیانت ہے، پس تمہارا قبیلہ مجھ سے بیعت کرے۔ تو دو یا تین آدمیوں کے ہاتھ ان کے ہاتھ سے چمٹ گئے۔ انہوں نے کہا: تمہارے اندر خیانت ہے۔ چنانچہ وہ سونے کا ایک گائے کے سر جیسا بڑا سر لے آئے اور اسے رکھ دیا، تو آگ آئی اور اسے کھا گئی۔ پھر اللہ نے ہمارے لیے مالِ غنیمت حلال کر دیا، اس نے ہماری کمزوری اور بے بسی دیکھی تو ہمارے لیے اسے حلال کر دیا۔“