حدیث نمبر: 3999
«عرضت علي الأمم فرأيت النبي ومعه الرهط والنبي ومعه الرجل والرجلان والنبي وليس معه أحد إذ رفع لي سواد عظيم فظننت أنهم أمتي فقيل لي: هذا موسى وقومه ولكن انظر إلى الأفق فإذا سواد عظيم فقيل لي: انظر إلى الأفق الآخر فإذا سواد عظيم فقيل لي: هذه أمتك ومعهم سبعون ألفا يدخلون الجنة بغير حساب ولا عذاب هم الذين لا يرقون ولا يسترقون ولا يتطيرون ولا يكتوون وعلى ربهم يتوكلون»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے سامنے امتیں پیش کی گئیں، تو میں نے دیکھا کہ کسی نبی کے ساتھ چند آدمی ہیں، اور کسی نبی کے ساتھ ایک یا دو آدمی ہیں، اور کسی نبی کے ساتھ کوئی بھی نہیں۔ اتنے میں مجھے ایک بہت بڑی جماعت دکھائی دی تو میں نے سمجھا کہ یہ میری امت ہے، مگر مجھے بتایا گیا: یہ موسیٰ اور ان کی قوم ہے۔ لیکن افق کی طرف دیکھو، تو وہاں ایک بہت بڑی جماعت تھی، پھر مجھے کہا گیا: دوسرے افق کی طرف دیکھو، تو وہاں بھی ایک بہت بڑی جماعت تھی، تو مجھے بتایا گیا: یہ تمہاری امت ہے، اور ان کے ساتھ ستر ہزار ایسے لوگ ہیں جو بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو نہ جھاڑ پھونک کرواتے ہیں، نہ منتر کرواتے ہیں، نہ بدشگونی لیتے ہیں، نہ داغ لگواتے ہیں، اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف العين / حدیث: 3999
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن ابن عباس. مختصر مسلم ١٠١.