حدیث نمبر: 3594
"سأل موسى ربه فقال: يا رب ما أدنى أهل الجنة منزلة؟ قال: هو رجل يجيء بعدما يدخل أهل الجنة الجنة فيقال له: أدخل الجنة فيقول: أي رب كيف وقد نزل الناس منازلهم وأخذوا أخذاتهم؟ فيقال له: أترضى أن يكون لك مثل ملك ملك من ملوك الدنيا؟ فيقول: رضيت رب فيقول: لك ومثله ومثله ومثله ومثله فقال في الخامسة: رضيت رب فيقول هذا لك وعشرة أمثاله ولك ما اشتهت نفسك ولذت عينك فيقول رضيت رب! قال: رب فأعلاهم منزلة قال أولئك الذين أردت غرست كرامتهم بيدي وختمت عليها فلم تر عين ولم تسمع أذن ولم يخطر على قلب بشر"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب سے پوچھا: اے میرے رب! جنت والوں میں سب سے کم درجے والا کون ہو گا؟ اللہ نے فرمایا: وہ ایک ایسا آدمی ہو گا جو جنت والوں کے جنت میں داخل ہو جانے کے بعد آئے گا، تو اس سے کہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہ کہے گا: اے رب! کیسے، جبکہ لوگ اپنے مقامات پر اتر چکے اور اپنے حصے لے چکے ہیں؟ اس سے کہا جائے گا: کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ تمہیں دنیا کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ کی بادشاہت کے برابر مل جائے؟ وہ کہے گا: میں راضی ہوں، اے رب! اللہ فرمائے گا: تمہارے لیے یہ ہے اور اتنا ہی اور، اتنا ہی اور، اتنا ہی اور، اتنا ہی اور۔ پانچویں بار وہ کہے گا: میں راضی ہوں، اے رب! اللہ فرمائے گا: یہ تمہارے لیے ہے اور اس سے دس گنا مزید، اور تمہارے لیے وہ سب کچھ ہے جو تمہارا دل چاہے اور تمہاری آنکھ کو بھلا لگے۔ وہ کہے گا: میں راضی ہوں، اے رب! موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: اے رب! پھر ان میں سب سے اونچے درجے والا کون ہو گا؟ اللہ نے فرمایا: وہ وہی لوگ ہیں جنہیں میں نے چاہا، میں نے اپنے ہاتھ سے ان کی عزت (کا پودا) لگایا اور اس پر مہر لگا دی، (ایسی نعمتیں ہیں کہ) نہ کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال گزرا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3594
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ت] عن المغيرة بن شعبة.