حدیث نمبر: 3585
«سآمرك بأمرين أيهما فعلت أجزأك عن الآخر وإن قويت عليهما فأنت أعلم إنما هذه ركضة من ركضات الشيطان فتحيضي ستة أيام أو سبعة أيام في علم الله ثم اغتسلي حتى إذا رأيت أنك قد طهرت واستنقأت فصلي ثلاثا وعشرين ليلة أو أربعا وعشرين ليلة وأيامها وصومي فإن ذلك يجزيك وكذلك فافعلي كل شهر كما يحضن النساء وكما يطهرن ميقات حيضهن وطهرهن وإن قويت على أن تؤخري الظهر وتعجلي العصر فتغتسلي وتجمعين بين الصلاتين الظهر والعصر وتؤخرين المغرب وتعجلين العشاء ثم تغتسلين وتجمعين بين الصلاتين فافعلي وتغتسلين مع الفجر فافعلي وصومي إن قدرت على ذلك وهذا أعجب الأمرين إلي»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں تمہیں دو باتوں کا حکم دیتا ہوں، ان میں سے جو بھی کرو گی وہ دوسری سے کفایت کر جائے گی، اور اگر تم دونوں پر قدرت رکھتی ہو تو تم خود بہتر جانتی ہو۔ یہ (خون) محض شیطان کی ایک ٹھوکر ہے، پس تم اللہ کے علم کے مطابق چھ یا سات دن حیض کے شمار کرو، پھر غسل کر لو، یہاں تک کہ جب تم دیکھو کہ تم پاک ہو گئی ہو اور صاف ہو گئی ہو تو تئیس یا چوبیس راتیں اور ان کے دن نماز پڑھو اور روزہ رکھو، یہ تمہارے لیے کافی ہو گا۔ اور ہر مہینے اسی طرح کیا کرو جیسے عورتیں حیض آنے اور پاک ہونے کے وقت پر حیض میں مبتلا ہوتی اور پاک ہوتی ہیں۔ اور اگر تم ظہر کو مؤخر کرنے اور عصر کو جلدی پڑھنے کی طاقت رکھتی ہو تو غسل کر کے ظہر اور عصر دونوں نمازیں اکٹھی پڑھ لو، اور مغرب کو مؤخر کر کے عشاء جلدی پڑھ لو، پھر غسل کر کے دونوں نمازیں اکٹھی پڑھ لو، تو ایسا کر لو، اور فجر کے ساتھ غسل کر لو، تو ایسا کر لو، اور اگر طاقت رکھتی ہو تو روزہ بھی رکھو، اور یہ دونوں باتوں میں سے مجھے زیادہ پسند ہے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3585
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ٤ ك] عن حمنة بنت جحش. صحيح أبي داود ٢٩٢، الإرواء ١٨٨: الطحاوي، قط، هق.