حدیث نمبر: 2960
«تعرض الفتن على القلوب عرض الحصير عودا عودا فأي قلب أشربها نكتت فيه نكتة سوداء وأي قلب أنكرها نكتت فيه نكتة بيضاء حتى يصير القلب أبيض مثل الصفا لا تضره فتنة ما دامت السموات والأرض والآخر أسود مربدا كالكوز مجخيا لا يعرف معروفا ولا ينكر منكرا إلا ما أشرب من هواه»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”فتنے دلوں پر اس طرح پیش کیے جاتے ہیں جیسے چٹائی تنکا تنکا بنائی جاتی ہے، پس جو دل اسے قبول کر لے اس میں ایک کالا نکتہ ڈال دیا جاتا ہے، اور جو دل اسے رد کر دے اس میں ایک سفید نکتہ ڈال دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ ایک دل صاف پتھر کی طرح سفید ہو جاتا ہے، جسے کوئی فتنہ نقصان نہیں پہنچا سکتا جب تک آسمان و زمین قائم ہیں، اور دوسرا دل سیاہ اور خاک آلود ہو کر الٹے کوزے کی طرح ہو جاتا ہے، وہ نہ کسی نیکی کو پہچانتا ہے اور نہ کسی برائی کا انکار کرتا ہے، سوائے اس کے جو اس کی خواہش نے اس میں رچا دیا ہو۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2960
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن حذيفة. مختصر مسلم ١٩٩٠.