حدیث نمبر: 2871
«بينما رجل راكب على بقرة التفتت إليه فقالت: إني لم أخلق لهذا إنما خلقت للحرث فإني أومن بهذا أنا وأبو بكر وعمر وبينما رجل في غنمه إذ عدا الذئب فذهب منها بشاة فطلبه حتى استنقذها منه فقال له الذئب: هنا استنقذتها مني فمن لها يوم السبع يوم لا راعي لها غيري فإني أومن بهذا أنا وأبو بكر وعمر»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص گائے پر سوار تھا، تو گائے نے اس کی طرف مڑ کر کہا کہ میں اس کام (سواری) کے لیے پیدا نہیں کی گئی، بلکہ مجھے تو کھیتی باڑی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ میں (یعنی محمد ﷺ) اس بات پر ایمان لاتا ہوں اور ابوبکر اور عمر بھی (اس پر ایمان رکھتے ہیں)۔ اسی طرح ایک شخص اپنی بکریوں میں تھا کہ ایک بھیڑیے نے حملہ کر کے ایک بکری پکڑ لی۔ اس شخص نے پیچھا کر کے بکری اس سے چھڑا لی۔ بھیڑیے نے اس سے کہا کہ آج تو تم نے مجھ سے اسے چھڑا لیا ہے، لیکن درندوں والے دن (یعنی فتنوں کے دور میں) اس کا کون محافظ ہوگا جس دن میرے سوا ان کا کوئی چرواہا نہیں ہوگا؟ میں اس بات پر بھی ایمان لاتا ہوں اور ابوبکر اور عمر بھی۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2871
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن] عن أبي هريرة. مختصر مسلم نحوه ١٦٢٤، الإرواء ٢١٨٦.