حدیث نمبر: 2869
«بينما أنا نائم رأيتني على قليب عليها دلو فنزعت منها ما شاء الله ثم أخذها ابن أبي قحافة فنزع بها ذنوبا أو ذنوبين وفي نزعه ضعف والله يغفر له ضعفه ثم استحالت غربا فأخذها ابن الخطاب فلم أر عبقريا من الناس ينزع نزع عمر ثم ضرب الناس بعطن»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں سو رہا تھا، میں نے دیکھا کہ میں ایک کنویں پر ہوں جس پر ایک ڈول لگا ہوا ہے، میں نے اس سے جتنا اللہ نے چاہا پانی نکالا، پھر ابن ابی قحافہ (ابوبکر رضی اللہ عنہ) نے اسے پکڑا اور ایک یا دو ڈول پانی نکالا، اور ان کے نکالنے میں کچھ کمزوری تھی، اللہ ان کی اس کمزوری کو معاف فرمائے، پھر وہ ڈول بڑا ہو گیا اور ابن خطاب (عمر رضی اللہ عنہ) نے اسے پکڑ لیا، میں نے لوگوں میں سے کسی کو عمر کی طرح پانی کھینچتے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ لوگوں (یعنی اونٹوں) نے سیراب ہو کر اپنے مقام پر بیٹھ گئے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2869
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٦٣١.