حدیث نمبر: 2857
«بينا أنا أسير في الجنة إذ عرض لي نهر حافتاه قباب اللؤلؤ المجوف قلت: يا جبريل ما هذا؟ قال: هذا الكوثر الذي أعطاكه الله ثم ضرب بيده إلى طينه فاستخرج مسكا ثم رفعت لي سدرة المنتهى فرأيت عندها نورا عظيما»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اسی دوران کہ میں جنت میں سیر کر رہا تھا، اچانک میرے سامنے ایک ایسی نہر لائی گئی جس کے دونوں کناروں پر اندر سے کھوکھلے موتیوں کے خیمے تھے۔ میں نے پوچھا: اے جبریل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: یہ وہ نہرِ کوثر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی ہے۔ پھر فرشتے نے اپنا ہاتھ اس نہر کی مٹی پر مارا تو اس میں سے خالص مشک نکالی، پھر میرے سامنے سدرۃ المنتہیٰ کو ظاہر کیا گیا تو میں نے اس کے پاس ایک بہت بڑا اور عظیم نور دیکھا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2857
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ ت] عن أنس.