حدیث نمبر: 2649
«ألا تعجبون كيف يصرف الله عني شتم قريش ولعنهم يشتمون مذمما ويلعنون مذمما وأنا محمد»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تم اس بات پر تعجب نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ قریش کی گالیوں اور لعنتوں کو مجھ سے کیسے پھیر دیتا ہے؟ وہ (معاذ اللہ) «مذمم» (برائی والا) کو گالیاں دیتے ہیں اور اس پر لعنت بھیجتے ہیں، جبکہ میرا نام «محمد» (تعریف کیا گیا) ہے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2649
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ ن] عن أبي هريرة. فقه السيرة ٦٢.