حدیث نمبر: 2549
«أوصيكم بتقوى الله والسمع والطاعة وإن أمر عليكم عبد حبشي فإنه من يعش منكم بعدي فسيري اختلافا كثيرا فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء المهديين الراشدين تمسكوا بها وعضوا عليها بالنواجذ وإياكم ومحدثات الأمور فإن كل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے تقویٰ اور (حکمران کی بات) سننے اور اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں، خواہ تم پر کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ حکمران بنا دیا جائے۔ کیونکہ تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت زیادہ اختلافات دیکھے گا، پس تم پر میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت لازم ہے۔ اسے مضبوطی سے تھام لو اور اسے اپنی داڑھوں سے جکڑ لو، اور دین میں نئی ایجاد کردہ چیزوں (بدعات) سے بچو، کیونکہ ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2549
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ت هـ ك] عن العرباض بن سارية. الإرواء ٢٤٥٥، سرح الطحاوية ٥٠١، ٧١٥، السنة ٣١، ٥٤.