صحیح الجامع الصغیر
حرف الألف— حرف الف
الأحاديث المبدوءة بحرف الألف باب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«إني والله ما قمت مقامي لأمر ينفعكم لرغبة ولا لرهبة ولكن تميما الداري أتاني فأخبرني خبرا» منعني القيلولة من الفرح وقرة العين فأحببت أن أنشر عليكم فرح نبيكم ألا إن تميما الداري أخبرني: أن الريح ألجأتهم إلى جزيرة لا يعرفونها فقعدوا في
قوارب السفينة حتى خرجوا إلى الجزيرة فإذا هم بشيء أهلب كثير الشعر قالوا له: ما أنت؟ قالت: أنا الجساسة; قالوا: أخبرينا قالت: [ما أنا بمخبرتكم شيئا ولا سائلتكم شيئا] ولكن هذا الدير قد رمقتموه فأتوه فإن فيه رجلا بالأشواق إلى أن تخبروه ويخبركم فأتوه فدخلوا عليه فإذا هم بشيخ موثق شديد الوثاق [يظهر الحزن شديد التشكي] فقال لهم: من أين؟ قالوا: من الشام قال: ما فعلت العرب؟ قالوا: نحن قوم من العرب عم تسأل؟ قال: ما فعل هذا الرجل الذي خرج فيكم؟ قالوا: خيرا ناوى قوما فأظهره الله عليهم فأمرهم اليوم جميع: إلههم واحد ودينهم واحد قال: ما فعلت عين زغر؟ قالوا: خيرا يسقون منها زرعهم ويستقون منها لسقيهم قال: ما فعل نخل [بئر عمان] وبيسان؟ قالوا: يطعم ثمره كل عام قال: ما فعلت بحيرة طبرية؟ قالوا: تدفق جنباتها من كثرة الماء; [فزفر ثلاث زفرات] ثم قال: لو انفلت من وثاقي هذا لم أدع أرضا إلا وطئتها برجلي هاتين إلا طيبة ليس لي عليها سبيل [إلى هذا انتهى فرحي] هذه طيبة والذي نفسي بيده ما فيها طريق ضيق ولا واسع ولا سهل ولا جبل إلا وعليه ملك شاهر سيفه إلى يوم القيامة"(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کی قسم! میں اس جگہ تمہیں کسی بات کی ترغیب دلانے یا ڈرانے کے لیے کھڑا نہیں ہوا، بلکہ تمیم داری میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے ایک ایسی خبر دی جس نے خوشی اور آنکھوں کی ٹھنڈک کی وجہ سے مجھے دوپہر کے آرام (قیلولہ) سے روکے رکھا، پس میں نے چاہا کہ میں تم لوگوں کے سامنے تمہارے نبی کی خوشی بیان کروں۔ سنو! یقیناً تمیم داری نے مجھے بتایا کہ مخالف ہوا انہیں ایک ایسے جزیرے کی طرف لے گئی جسے وہ نہیں جانتے تھے، پس وہ کشتی کی چھوٹی ڈونگیوں میں بیٹھ گئے یہاں تک کہ وہ جزیرے پر نکل آئے۔ وہاں ان کا سامنا ایک ایسی چیز سے ہوا جو بہت زیادہ بالوں والی تھی۔ انہوں نے اس سے پوچھا: تو کیا ہے؟ اس نے جواب دیا: میں جساسہ ہوں۔ انہوں نے کہا: ہمیں کچھ خبر دو۔ اس نے کہا: میں نہ تمہیں کچھ بتاؤں گی اور نہ تم سے کچھ پوچھوں گی، البتہ تم اس خانقاہ کی طرف جاؤ جسے تم دیکھ رہے ہو، کیونکہ اس میں ایک شخص ہے جو بے تابی سے اس بات کا منتظر ہے کہ تم اسے کچھ بتاؤ اور وہ تمہیں کچھ بتائے۔ پس وہ اس کے پاس آئے، جب وہ اندر داخل ہوئے تو وہاں ایک انتہائی مضبوطی سے جکڑا ہوا بوڑھا شخص تھا جو شدید غم اور بے حد تکلیف کا اظہار کر رہا تھا۔ اس نے ان سے پوچھا: تم کہاں سے آئے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: شام سے۔ اس نے پوچھا: عرب کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: ہم عرب کے لوگ ہیں، تم کس کے بارے میں پوچھ رہے ہو؟ اس نے کہا: اس آدمی کا کیا حال ہے جو تم میں ظاہر ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: خیر ہے، اس نے ایک قوم سے جنگ کی تو اللہ نے اسے ان پر غلبہ عطا فرما دیا۔ آج ان سب کا معاملہ ایک ہے، ان کا معبود ایک ہے اور ان کا دین ایک ہے۔ اس نے پوچھا: زُغَر کے چشمے کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: بہت اچھا، لوگ اس سے اپنی کھیتیاں سیراب کرتے ہیں اور پانی پیتے ہیں۔ اس نے پوچھا: عمان کے کنویں اور بیسان کی کھجوروں کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: وہ ہر سال پھل دیتی ہیں۔ اس نے پوچھا: بحیرہ طبریہ کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: پانی کی کثرت سے اس کے کنارے چھلک رہے ہیں۔ اس پر اس نے تین زور دار سانسیں لیں اور پھر کہا: اگر میں اپنی اس قید سے چھوٹ گیا تو میں کوئی ایسی زمین نہیں چھوڑوں گا جسے اپنے ان دونوں قدموں سے نہ روندوں، سوائے طیبہ (مدینہ) کے کہ اس پر میرا کوئی زور نہیں چلے گا۔ یہاں پر میری خوشی کی انتہا ہے۔ یہ طیبہ ہے، اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس کا کوئی بھی تنگ یا کشادہ راستہ، اور کوئی میدان یا پہاڑ ایسا نہیں ہے جس پر کوئی فرشتہ قیامت تک اپنی ننگی تلوار لیے پہرا نہ دے رہا ہو۔“