حدیث نمبر: 2140
«إن قريشا حديثو عهد بجاهلية ومصيبة وإني أردت أن أحبوهم وأتألفهم أما ترضون أن يرجع الناس بالدنيا وترجعون برسول الله إلى بيوتكم؟ لو سلك الناس واديا أو شعبا لسلكت وادي الأنصار وشعبهم»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک قریش کا زمانہ جاہلیت اور مصیبت سے ابھی نیا نیا واسطہ ختم ہوا ہے (یعنی وہ نو مسلم ہیں)، اس لیے میں نے چاہا کہ ان کی مالی مدد کروں اور ان کی دلجوئی کروں۔ کیا تم (اے انصار!) اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ تو دنیا کا مال و متاع لے کر واپس جائیں اور تم اللہ کے رسول کو اپنے گھروں کی طرف لے کر لوٹو؟ اگر سب لوگ کسی ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی میں چلوں گا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2140
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أنس. خ ٣/١٥٤، م ٧/١٠٦.