حدیث نمبر: 2074
«إن رجلا حضره الموت فلما أيس من الحياة أوصى أهله إذا أنا مت فاجمعوا لي حطبا كثيرا جزلا ثم أوقدوا فيه نارا حتى إذا أكلت لحمي وخلصت إلى عظمي فامتحشت فخذوها فاطحنوها ثم انظروا يوما راحا فاذروها في اليم ففعلوا ما أمرهم فجمعه الله وقال له: لم فعلت ذلك؟ قال: من خشيتك فغفر له»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بےشک ایک شخص کی موت کا وقت قریب آیا، جب وہ زندگی سے ناامید ہو گیا تو اس نے اپنے گھر والوں کو وصیت کی کہ جب میں مر جاؤں تو بہت زیادہ خشک لکڑیاں اکٹھی کرنا، پھر ان میں آگ جلانا یہاں تک کہ جب وہ میرے گوشت کو کھا لیں اور میری ہڈیوں تک پہنچ کر انہیں جلا ڈالیں تو انہیں لے کر پیس لینا، پھر ایک تیز ہوا والے دن دیکھ کر انہیں سمندر میں بکھیر دینا۔ انہوں نے ویسے ہی کیا جیسے اس نے حکم دیا تھا۔ پھر اللہ نے اس کے ذرات کو جمع کیا اور اس سے پوچھا: تو نے ایسا کیوں کیا تھا؟ اس نے کہا: آپ کے خوف کی وجہ سے! تو اللہ نے اسے معاف فرما دیا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2074
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن هـ] عن حذيفة وأبي مسعود.