حدیث نمبر: 2049
«إن بين يدي الساعة فتنا كقطع الليل المظلم يصبح الرجل فيها مؤمنا ويمسي كافرا ويمسي مؤمنا ويصبح كافرا القاعد فيها خير من القائم والقائم فيها خير من الماشي والماشي فيها خير من الساعي فكسروا قسيكم وقطعوا أوتاركم واضربوا سيوفكم بالحجارة فإن دخل على أحد منكم بيته فليكن كخير ابني آدم»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک قیامت سے پہلے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے رونما ہوں گے، ان میں آدمی صبح کو مومن ہوگا اور شام کو کافر ہو جائے گا، اور شام کو مومن ہوگا تو صبح کو کافر ہو جائے گا، ان فتنوں میں بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہوئے سے بہتر ہوگا، کھڑا ہوا شخص چلنے والے سے بہتر ہوگا، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا، لہٰذا تم (ان فتنوں کے دور میں) اپنی کمانوں کو توڑ دینا، ان کی تانتوں کو کاٹ دینا اور اپنی تلواروں کو پتھروں پر مار کر (کند کر) لینا، پھر اگر کوئی حملہ آور تم میں سے کسی کے گھر میں داخل ہو جائے تو وہ آدم کے دو بیٹوں میں سے بہتر بیٹے (ہابیل) کی طرح بن جائے (یعنی قتل ہو جائے مگر قتل نہ کرے)۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2049
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د هـ ك] عن أبي موسى. الإرواء ٢٥١٧، الصحيحة ١٥٣٥.