حدیث نمبر: 2047
«إن بين يدي الساعة الهرج: القتل ما هو قتل الكفار ولكن قتل الأمة بعضها بعضا حتى أن الرجل يلقاه أخوه فيقتله ينتزع عقول أهل ذلك الزمان ويخلف لها هباء من الناس يحسب أكثرهم أنهم على شيء وليسوا على شيء»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک قیامت سے پہلے «الْهَرْجُ» یعنی بکثرت قتل و غارت گری ہوگی، یہ کفار کا قتل نہیں ہوگا بلکہ امت کا ایک دوسرے کو قتل کرنا ہوگا، یہاں تک کہ ایک آدمی اپنے بھائی سے ملے گا اور اسے قتل کر دے گا، اس زمانے کے لوگوں کی عقلیں سلب کر لی جائیں گی اور ان کی جگہ ایسے بے وقوف اور بے وقعت لوگ رہ جائیں گے جن میں سے اکثر کا یہ گمان ہوگا کہ وہ کسی درست راہ پر ہیں، حالانکہ وہ کسی بھی حق بات پر نہیں ہوں گے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2047
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ] عن أبي موسى. الصحيحة ١٦٢٨.