صحیح الجامع الصغیر
حرف الألف— حرف الف
الأحاديث المبدوءة بحرف الألف باب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«إن أول الناس يقضى يوم القيامة عليه رجل استشهد فأتي به فعرفه نعمه فعرفها قال: فما عملت فيها؟ قال: قاتلت فيك حتى استشهدت قال: كذبت ولكنك قاتلت ليقال جريء فقد قيل ثم أمر به فسحب على وجهه حتى ألقي في النار ورجل تعلم العلم وعلمه وقرأ القرآن فأتي به فعرفه نعمه فعرفها قال: فما عملت فيها؟ قال: تعلمت العلم وعلمته وقرأت فيك القرآن قال: كذبت ولكنك تعلمت العلم ليقال عالم وقرأت القرآن ليقال: هو قارئ فقد قيل ثم أمر به فسحب على وجهه حتى ألقي في النار ورجل وسع الله عليه وأعطاه من أصناف المال كله فأتي به فعرفه نعمه فعرفها قال: فما عملت فيها؟ قال: ما تركت من سبيل تحب أن ينفق فيها إلا أنفقت فيها لك قال: كذبت ولكنك فعلت ليقال: هو جواد فقد قيل ثم أمر به فسحب على وجهه ثم ألقي في النار»(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک قیامت کے دن لوگوں میں سب سے پہلے جس شخص کا فیصلہ کیا جائے گا وہ ایک ایسا آدمی ہوگا جو شہید کر دیا گیا تھا۔ اسے لایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا تو وہ انہیں پہچان لے گا۔ اللہ فرمائے گا: تو نے ان نعمتوں (کے شکرانے) میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے تیری راہ میں جنگ کی یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔ اللہ فرمائے گا: تو جھوٹ کہتا ہے، بلکہ تو نے اس لیے جنگ کی تھی تاکہ تجھے بہادر کہا جائے، سو وہ کہہ دیا گیا۔ پھر اس کے متعلق حکم دیا جائے گا تو اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ اور دوسرا وہ شخص ہوگا جس نے علم سیکھا، اسے دوسروں کو سکھایا اور قرآن پڑھا۔ اسے لایا جائے گا، اللہ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا تو وہ انہیں پہچان لے گا۔ اللہ فرمائے گا: تو نے ان میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے علم سیکھا، اسے سکھایا اور تیری رضا کے لیے قرآن پڑھا۔ اللہ فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا، بلکہ تو نے علم اس لیے سیکھا تاکہ تجھے عالم کہا جائے، اور تو نے قرآن اس لیے پڑھا تاکہ تجھے قاری کہا جائے، سو وہ کہہ دیا گیا۔ پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا، تو اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ اور تیسرا وہ شخص ہوگا جسے اللہ نے وسعت دی اور ہر قسم کا مال عطا کیا۔ اسے لایا جائے گا، اللہ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا تو وہ انہیں پہچان لے گا۔ اللہ فرمائے گا: تو نے ان میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے کوئی ایسا راستہ نہیں چھوڑا جس میں خرچ کرنا تجھے پسند ہو اور میں نے اس میں تیرے لیے خرچ نہ کیا ہو۔ اللہ فرمائے گا: تو جھوٹا ہے، بلکہ تو نے اس لیے خرچ کیا تاکہ تجھے سخی کہا جائے، سو وہ کہا جا چکا۔ پھر اس کے متعلق حکم دیا جائے گا تو اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔“